Masarrat
Masarrat Urdu

تعلیم کردار ، تہذیب اور روح کی تشکیل کرتی ہے: رحمت النساء

Thumb

نئی دہلی، 19 اگست (مسرت ڈاٹ کام) تعلیم انسانی زندگی کا ایک اہم اور بنیادی پہلو ہے۔ سیاست میں تعلیم کا عنصر زیادہ ہونا چاہیے، جب کہ تعلیم کے میدان میں سیاسی مداخلت کم سے کم ہو ۔ان خیالات کا اظہار 'اورا ای میگزین' کی چیف ایڈیٹر محترمہ رحمت النساء نے جماعت اسلامی ہند کے کانفرنس ہال میں '' اورا ای میگزن'' کے زیر اہتمام ''اسکول آف لائف: تعلیم پر غورو فکر'' کے موضوع پر ایک تعلیمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار میں تعلیم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ تعلیم کس طرح فرد کے کردار، ثقافت اور روحانی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس بات پر بھی غور و فکر کیا گیا کہ تعلیم کا عمل محض کلاس روم یا پیشہ ورانہ زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ انسان کی پوری زندگی میں جاری رہنے والا ایک مسلسل عمل ہے۔ سمینار میں اس پر بھی غور کیا گیا کہ حقیقی معنوں میں ایک تعلیم یافتہ انسان ہونے کا مفہوم کیا ہے اور تعلیم فرد کی فکری نشوونما کے ساتھ اس کے اخلاق، رویے اور معاشرتی ذمہ داریوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ سیمینار 'اورا ای میگزین' کے تیسرے مطبوعہ شمارے کی رونمائی کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں تعلیم اور انسانی شخصیت کی تشکیل سے متعلق مختلف موضوعات کو اجاگر کیا گیا۔

سمینار کے افتتاحی خطاب میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرپرسن اور نائب امیر جماعتِ اسلامی ہند، پروفیسر سلیم انجینئر نے تعلیم سے متعلق اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی ترقی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے معیاری تعلیم کے بہترین اور آسانی سے قابلِ رسائی مواقع فراہم کرنا اور ہر فرد کو بلاامتیاز معیاری تعلیم تک رسائی ضروری ہے۔

دہلی یونیورسٹی کی ریٹائرڈ پروفیسر اور طویل عرصے سے تعلیمی میدان میں سرگرم کارکن پروفیسر نندیتا نارائن نے کہا کہ تعلیم زندگی کے ہر شعبے پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اور افراد کو بااختیار بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم افراد کو جمہوری اقدار کو سمجھنے، جمہوریت سے مؤثر طور پر استفادہ کرنے اور اپنی زندگی کو درست سمت میں آگے بڑھانے کا شعور فراہم کرتی ہے۔

الٹرنیٹیو ایجوکیشن کے شعبے میں مہارت رکھنے والی محترمہ ماریا محمود نے کہا ہے کہ تعلیم کا بنیادی مقصد بچوں میں شعور، آگہی اور سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو مختلف مہارتیں حاصل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرانا تعلیم کا ایک اہم حصہ ہے۔ تعلیم صرف کتابوں اور روایتی تدریسی طریقوں تک محدود نہیں، بلکہ کھیلوں اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے بھی بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کے لیے دوستانہ، محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرکے معیاری تعلیم کے مؤثر مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شرناس متھو، ڈائریکٹر دی ویمن ایجوکیشن اینڈ ایمپاورمنٹ ٹرسٹ، نے کہا کہ مالی مشکلات کو بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے ایک ایسے خاندان کی مثال دی جہاں شوہر کی وفات کے بعد ایک خاتون نے اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کیا اور ان کے تعلیمی اخراجات پورے کیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے۔ اس لیے خواتین کو بااختیار بنانا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

تعلیمی اقدار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پبلک ہیلتھ ریسرچر شانتی این ایس نے کہا کہ جس طرح بچوں کی مناسب جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک ضروری ہے، اسی طرح ان کی بہتر تربیت، شخصیت سازی اور ہمہ جہت نشوونما کے لیے صحت مند اور سازگار تعلیمی ماحول بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ایسا ماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے جو ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مثبت اقدار کو فروغ دینے میں معاون ہو۔

ڈاکٹر رابعہ بصری، پرنسپل ہادیہ کالج، چنئی، نے کہا کہ بچوں کو تعلیم دینا ایک اہم اور ذمہ داری کا کام ہے۔ ایک استاد کی ذمہ داری صرف کتابی علم فراہم کرنا نہیں، بلکہ انہیں ایسی ہمہ جہت نشوونما میں مدد کرنا بھی شامل ہے جو مستقبل میں ایک کامیاب اور ذمہ دار انسان بنا سکے۔ استاد کا اپنے طلبہ کے ساتھ جذباتی اور شفقت بھرا تعلق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ ایک مثالی استاد تھے ۔ آپ ﷺ کی تعلیمات اساتذہ کے لیے بہترین نمونہ ہیں کہ طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ان کی اخلاقی اور انسانی تربیت پر بھی توجہ دی جائے۔

اس کانفرنس میں مختلف اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے وابستہ اساتذہ، طلبہ اور تعلیم سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اس سے قبل 'اورا' کی ایڈیٹر محترمہ ثمینہ افشاں نے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ تقریب کے دوران صائمہ ایس اور مریم فردوس نے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ عظمٰی اوصاف نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔

 

Ads