تقریب کا افتتاح راوی-بیاس واٹر ٹریبونل کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ونییت سرن نے شمع روشن کرکے کیا، جبکہ صدارت معروف کلاسیکی رقاصہ، پدم وبھوشن اعزاز یافتہ اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سونل مان سنگھ نے کی۔
اس موقع پر "ماٹی" کے کنوینر آصف اعظمی نے اعلان کیا کہ راہی معصوم رضا کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں آئندہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 100 ادبی، ثقافتی اور علمی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ادیب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب نہیں بلکہ ان کے اتحاد، رواداری، ہمدردی اور سچائی کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک قومی کوشش ہے۔
ڈاکٹر سونل مان سنگھ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ راہی معصوم رضا محض ایک ادیب نہیں بلکہ اپنے عہد کا ضمیر تھے۔ انہوں نے کہا کہ "مہابھارت" کے مکالموں کے ذریعے راہی نے ہندوستان کے ہر گھر سے مکالمہ قائم کیا اور ان کے مشہور الفاظ "میں سمے ہوں" آج بھی وقت کی طاقت اور تاریخ کی گواہی کی یاد دلاتے ہیں۔
افتتاحی خطاب میں جسٹس ونییت سرن نے کہا کہ راہی معصوم رضا کی تحریریں انسانی دکھ، جدوجہد اور استقامت کی لازوال دستاویز ہیں، جو آنے والی نسلوں کو ایک متحد اور باوقار قوم کے طور پر جینے کی ترغیب دیتی رہیں گی۔
مہمانِ خصوصی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا کہ راہی معصوم رضا کی سب سے بڑی طاقت ان کی زبان تھی، جو عوام کی زبان تھی۔ انہوں نے کہا کہ راہی نے اپنی تحریروں کے ذریعے یہ سبق دیا کہ حقیقی جمہوریت مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور انسانیت کے فروغ میں مضمر ہے۔
نامور فلم ساز اور مصور مظفر علی نے کہا کہ راہی معصوم رضا نے سینما کو شاعری کی طرح لکھا اور زندگی کو فن کی طرح جیا۔ انہوں نے کہا کہ فلم "گمان" میں مہاجر کے درد سے لے کر "انجمن" کی معدوم ہوتی تہذیب تک، راہی کے مکالمے جذبات اور تاریخ دونوں کو زندہ کر دیتے ہیں۔
معروف ادیبہ اور شاعرہ ممتا کالیا نے کہا کہ راہی معصوم رضا نے اپنی تخلیقات میں عام آدمی کو عزت اور شناخت عطا کی۔ ان کے ناول "آدھا گاؤں" اور "اوس کی بوند" میں وہ سماجی درد محفوظ ہے جسے تاریخ کی کتابیں اکثر نظرانداز کر دیتی ہیں۔
انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر کے۔ جی۔ سریش نے کہا کہ راہی معصوم رضا نے تقسیم ہند اور ایمرجنسی جیسے حساس موضوعات پر بے باکی سے قلم اٹھایا کیونکہ وہ ہندوستان کی وحدت اور اس کی روح پر کبھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کا قلم ہمیشہ سچائی، قومی یکجہتی اور مشترکہ تہذیب کا ترجمان رہا۔
تقریب کا آغاز نوپور سدھو نارائن کی روح پرور موسیقی سے ہوا، جنہوں نے راہی معصوم رضا کی غزلیں، بھجن اور فلمی نغمے پیش کیے۔ نظامت پروفیسر رحمان مصور نے کی، جبکہ تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں ادیبوں، دانشوروں، فنکاروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر راہی معصوم رضا (یکم اگست 1927 تا 15 مارچ 1992) اردو اور ہندی ادب کی ممتاز شخصیت تھے۔ وہ "آدھا گاؤں"، "اوس کی بوند"، "نیم کا پیڑ" اور "کٹرا بی آرزو" جیسے ناولوں کے ساتھ ساتھ بی آر چوپڑا کی شہرۂ آفاق ٹیلی ویژن سیریل "مہابھارت" کے مکالموں کے لیے بھی ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔
