Masarrat
Masarrat Urdu

کانگریس نے ناکامی کا داغ ہندوؤں پر لگایا: مودی

Thumb

نئی دہلی، 10 جون (مسرت ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے اس پر ناکامی کا داغ ہندوؤں کے ماتھے لگانے کا الزام لگایا۔

مسٹر مودی نے یہاں واقع بھارت منڈپم میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کے 12 برسوں کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ ملک کانگریس کے چکر ویوہ سے آزاد ہوا ہے۔ کانگریس نے ملک کو بے بسی، بے چارگی اور احساس کمتری کے غار میں گرا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "ملک کو یہی احساس کرایا جاتا تھا کہ ہندوستان میں ترقی آہستہ آہستہ ہی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں تیز ترقی ممکن ہی نہیں ہے اور بڑی ہی چالبازی سے سست ترقی کو ایک نام دیا تھا، 'ہندو ترقی کی شرح' یعنی طرزِ عمل کانگریس کا، ذمہ داری کانگریس کی، ناکامی کانگریس کی، لیکن داغ ملک کی بڑی ہندو آبادی کے نام لگایا گیا۔ جبکہ اصل میں اس برے کلچر کا نام کانگریس کی ترقی کی شرح ہونا چاہیے تھا۔" انہوں نے کہا کہ "ہمارے لیے پارٹی سے بڑا ہمیشہ ملک رہا ہے۔ ہم 'ملک پہلے' کے جذبے سے کام کرتے ہیں۔ ہندوستان کو صرف دنیا کی برابری نہیں کرنی، بلکہ اس سے ایک قدم آگے رہنا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب ہم میڈ ان انڈیا طیارے بھی بنائیں گے۔"

وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا کے بڑے بڑے ممالک کی معیشت جدوجہد کر رہی ہے تب بھی 2025-26 میں ہندوستان نے 7.7 فیصد کی ترقی کی شرح حاصل کی ہے اور پچھلی سہ ماہی تو، جو 31 مارچ کو ختم ہوئی ہے، اس میں بھی ہندوستان کی گروتھ 7.8 فیصد رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ کامیابی اتنی آسان نہیں ہے، ہم 'کمزور پانچ' کے کٹہرے سے باہر نکل کر آج دنیا کی تیز رفتار سے آگے بڑھنے والی معیشت بن چکے ہیں۔ پارٹی سے بڑا ملک ہے اور جب 'ملک سب سے پہلے' کے جذبے سے کام ہوتا ہے، تو کوئی بھی فیصلہ مشکل نہیں ہوتا۔"

وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی، معدنیات، چپس، بیٹری اسٹوریج، خلا، ڈرون، ڈیٹا سینٹر، کوانٹم کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) ہر شعبہ، ہر ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ان کے لیے بیرون ممالک پر منحصر نہیں رہ سکتا کیونکہ یہ ہندوستان کی اقتصادی اور اسٹریٹجک، ہر طرح کی سکیورٹی سے جڑے موضوعات ہیں۔ تبھی ہندوستان سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم پر اتنی توجہ مرکوز کر رہا ہے، تبھی اہم معدنیات کو لے کر مشن موڈ پر کام چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ 12 برس حکومت اور سماج کی شرکت کا جشن منانے والے رہے ہیں۔ گزشتہ 12 برسوں میں میں نے اہل وطن سے جو بھی تعاون مانگا، ملک نے دل کھول کر ساتھ دیا۔ ہمارا منتر رہا ہے 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس۔' سب کی کوشش ہی ایک وکست بھارت بنانے کے پیچھے کی اصل توانائی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "اب ریاستوں کے بیچ ایک نئے طرح کے صحت مند مقابلے کا وقت ہے۔ ہندوستان کی ترقی ریاستوں کی ایسی ہی ترقی سے آئے گی۔ آئیے، ہم اگلے دہائی کو صرف کامیابیوں کا ہی نہیں، بلکہ بہترین دہائی کا بھی بنائیں۔" مسٹر مودی نے کہا کہ "ایسے فیصلے، جنہیں پہلے ناممکن سمجھا گیا اور جو ملک کے محفوظ مستقبل کے لیے لازمی تھے، ہم نے بہت ہی نپے تلے طریقے سے ان فیصلوں کو بھی لیا۔"

انہوں نے کہا کہ "پہلے کی حکومتیں دفعہ 370 کی بات کرنے سے ڈرتی تھیں، ہم نے دفعہ 370 ہٹا کر پورے ملک میں آئین کو یکساں طور پر نافذ کیا۔" انہوں نے کہا کہ "میں نے صفائی ستھرائی کا اصرار کیا، تو پورا ملک نکل پڑا۔ میں نے ڈیجیٹل ادائیگی اپنانے کی اپیل کی، تو ہندوستان رئیل ٹائم ٹرانزیکشن میں دنیا میں آگے نکل گیا۔" انہوں نے کہا کہ "میں نے کورونا وبا کے دوران یکجہتی اور تحمل کا اصرار کیا، تو ملک نے مل کر اس وبا کا سامنا کیا۔ عوام نے کبھی ہمیں مایوس نہیں کیا۔ آنے والے وقت میں بھی ہمیں اسی عوامی اعتماد اور عوامی شرکت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔""

 

Ads