وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اقتصادی سروے پیش کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جاری مالی سال میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو پہلے تخمینے کے مطابق 7.4 فیصد رہے گی۔ اگلے مالی سال 2026-27 میں یہ شرح 6.8 فیصد سے 7.2 فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ ہے۔
اقتصادی سروے کے مقدمے میں کٹھوپنشد کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہمیں ہر لمحہ "شریہ" (طویل مدتی فائدہ) اور "پریہ" (فوری خوشی) کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ دانشمند لوگ شریہ کو منتخب کرتے ہیں جبکہ کم فہم لوگ پریہ کو چنتے ہیں۔
چیف اکنامک ایڈوائزر وی۔ اننت ناگیشورن کی تحریر کردہ اس سروے میں کہا گیا ہے کہ "عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی مساوات بدل رہی ہیں جس سے آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری، سپلائی چین اور ترقی کے منظرنامے متاثر ہوں گے۔ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر ہندوستان کو سامنے دکھائی دینے والے قلیل مدتی دباؤ کے حل تلاش کرنے کے بجائے مضبوطی، مسلسل جدت اور ترقی یافتہ ہندوستان کے راستے پر بڑھتے رہنے کا انتخاب کرنا چاہیے۔"
اقتصادی سروے کو بجٹ کا خاکہ سمجھا جاتا ہے اور اس لحاظ سے بجٹ میں حکومت عوامی مقبولیت حاصل کرنے والے اعلانات کے بجائے کچھ سخت اقدامات اٹھا سکتی ہے۔
اس میں سپلائی سائیڈ میں استحکام کو یقینی بنانے، نئے ذرائع تلاش کرنے اور نئے راستے و ادائیگی کے نظام میں تنوع لانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بیرونی عوامل کے سبب ہندوستان کو اقتصادی ترقی کو زیادہ سے زیادہ تیز کرنے اور اچانک جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ مسٹر ناگیشورن نے کہا ہے کہ ہندوستان کو ایک ساتھ "دوڑ اور میراتھن" دوڑنی ہے اور میراتھن ریس میں بھی سپرنٹ کی رفتار سے دوڑنے کی ضرورت ہے۔
سروے میں حکومت کے 'سودیشی' نعرے کے تعلق سے سمجھداری اور نظم و ضبط کی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ درآمدات کا مکمل متبادل نہ تو ممکن ہے، نہ عملی اور نہ ہی مطلوب۔
اس میں حال ہی میں یورپی یونین کے ساتھ مکمل ہونے والے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے ہندوستان کے محنت کش شعبوں کے سامنے برآمدات کے لیے زیادہ بازار دستیاب ہوں گے۔ اس سے بھارتی برآمدات مزید مسابقتی بنیں گی۔
اقتصادی سروے میں زرعی اور متعلقہ خدمات کی شرح نمو موجودہ مالی سال میں 3.1 فیصد رہنے اور نجی کھپت کا خرچ جی ڈی پی کے 61.5 فیصد پر رہنے کا اندازہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اچھے مانسون کے ساتھ ملک کی غذائی اجناس کی پیداوار زرعی سال 2024-25 میں بڑھ کر 35.77 کروڑ ٹن ہونے کا اندازہ ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 2.54 کروڑ ٹن زیادہ ہے۔ یہ اضافہ چاول، گندم، مکئی اور موٹے اناج (شری انّ) کی زیادہ پیداوار کے سبب ہوا ہے۔
