محترمہ مرمو نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن جب خطاب میں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منظور وکست بھارت جی رام جی قانون کا حکومت کی حصولیابی کے طورپر ذکر کیا تو اپوزیشن ارکان اپنی سیٹوں سے اچانک کھڑے ہو کر اس کی مخالفت کرنے لگے۔ اس دوران اپوزیشن نے اس کے خلاف نعرے بازی کی اور بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے رہے۔
کچھ دیر تک جاری ہنگامے کے دوران ایوان میں جہاں حکمراں جماعت کے ارکان نے ’جی رام جی‘ نام کا ذکر آتے ہی میزیں تھپتھپا کر اس کا خیرمقدم کیا، وہیں اپوزیشن ارکان اس کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ اپوزیشن ارکان ہنگامے کے دوران جی رام جی واپس لو کے نعرے لگاتے رہے۔
راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر جی رام جی قانون کی مخالفت کی۔ اپوزیشن ارکان کی رکاوٹوں کے باوجود صدر مرمو اپنا خطاب پڑھتی رہیں۔ بعد ازاں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے مختصر طور پر پڑھے گئے خطاب میں حکومت کی کئی کامیابیوں کا ذکر کیا، تاہم جی رام جی قانون کا حوالہ نہیں دیا۔ خطاب کے دوران جی رام جی بل کے ذکر کے وقت کافی دیر تک ایوان میں ہنگامے کی صورتحال برقرار رہی۔ جواباً حکمراں جماعت کے ارکان بھی مسلسل میزیں تھپتھپاتے رہے۔ محترمہ مرمو جو کچھ بول رہی تھیں وہ ہنگامے کے باعث سنائی نہیں دے رہا تھا لیکن اسی دوران ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو نے اپوزیشن ارکان کو خاموش ہونے اور اپنی نشستوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا، جس کے بعد تمام ارکان اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
