صدر مرمو نے بجٹ اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ’’نکسل انتہاپسندی‘‘ کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی برسوں تک ملک کے 126 اضلاع میں عدم تحفظ، خوف اور بے اعتمادی کا ماحول رہا۔ نکسل نظریے نے کئی نسلوں کا مستقبل تاریکی میں دھکیل دیا تھا، جس کا سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں، قبائلیوں اور دلتوں کو اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ’’آج نکسل انتہاپسندی کا چیلنج 126 اضلاع سے کم ہو کر محض آٹھ اضلاع تک محدود ہوگیا ہے، جن میں سے بھی صرف تین اضلاع شدید طور پر متاثر ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں نکسل انتہاپسندی سے وابستہ تقریباً دو ہزار افراد نے خودسپردگی اختیار کی ہے۔‘‘
نکسل انتہاپسندی سے آزاد ہونے والے اضلاع میں ترقی کا ذکر کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے بتایا کہ جب بیجاپور کے ایک گاؤں میں 26 سال بعد بس سروس شروع ہوئی تو لوگوں نے جشن منایا۔ بستر اولمپکس میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، جبکہ خود سپردگی کرنے والے افراد آج جگدل پور کے پنڈم کیفے میں عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔
صدر مرمو نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ جو لوگ خودسپردگی کرکے قومی دھارے میں شامل ہوئے ہیں، ان کی زندگی دوبارہ پٹری پر واپس آئی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ دن دور نہیں جب ملک سے نکسل انتہاپسندی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
