Masarrat
Masarrat Urdu

جمعیۃ علماء ہند کو ایک اور بڑی قانونی کامیابی،اکشردھام مندرحملہ میں گرفتارتین دوسرے لوگ بھی باعزت بری

Thumb

نئی دہلی، 24 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں اکشردھام مندرحملہ کے معاملہ میں وہ تین افراد بھی باعزت بری ہوگئے جن کوبعد میں گرفتارکیا گیا تھا۔

جمعیۃ علماء ہند آج یہاں جاری ریلیز کے مطابق باعزت بری ہونے والوں کے نام عبدالرشید سلیمان اجمیری، محمد فاروق محمد حنیف شیخ اورمحمد یاسین عرف یاسین بٹ ہے۔ احمدآباد کی خصوصی پوٹاعدالت میں یہ مقدمہ چلا اورسماعت کے بعد پوٹاعدالت کے خصوصی جج ہیمانگ آر راؤل نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے انہیں باعزت رہا کردیا کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ بھی سزایافتہ ملزمین کو ناکافافی ثبوت کے بنیاد پر بے قصورقراردیتے ہوئے رہا کرچکی ہے۔ فاضل جج نے یہ بھی کہا کہ اس حقیقت کے مدنظر کہ موجودہ تینوں ملزمین کے خلاف لگائے گئے الزام کے ضمن میں سپریم کورٹ کے ذریعہ تسلیم کئے گئے شواہد کے علاوہ ریکارڈ پر کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔ اس لئے ان تینوں ملزمین کو بھی رہاکیا جاتا ہے۔ ان تین لوگوں میں سے دوعبدالرشید سلیمان اجمیری اورمحمدفاروق محمد حنیف شیخ احمدآباد کے رہنے والے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اکشردھام مندرپر حملہ کا واقعہ جب پیش آیا تویہ دونوں سعودی عرب کے شہر ریاض میں بسلسلہ روزگارمقیم تھے، مگر انہیں بھی ملزم قراردیکر مفرور قراردیا گیا تھا۔ چنانچہ 2019میں جب یہ لوگ سعودی عرب سے لوٹے توکرائم برانچ نے انہیں گرفتارکرکے جیل بھیج دیاتھا، ان کے دیگر دوبھائیوں آدم سلیمان اجمیری اورسلیم حنیف شیخ کوبھی اس دہشت گرانہ معاملہ میں گرفتارکیا گیا تھاجنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے باعزت بری کردیا تھا، ان لوگوں کی درخواست پر جمعیۃ علماء ہندنے اس معاملہ میں بھی قانونی امدادفراہم کی۔

 

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے پوٹاعدالت کے حالیہ فیصلہ کا استقبال کرتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قراردیا اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی قابل اطمینان ہے کہ اس معاملہ میں پوٹاعدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بطورنظیراپنے سامنے رکھااوراس طرح بے گناہوں کی رہائی ممکن ہوپائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بے گناہ تھے کیونکہ اکشردھام مندرپر جب حملہ ہواتویہ لوگ وہاں موجود نہیں تھے مگر اس کے باوجود انہیں ملزم بنادیا گیا۔انہوں نے اس بات پر سخت افسوس کا اظہارکیا کہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی ان لوگوں کو انصاف کے حصول میں چھ سال لگ گئے، اس سے ہمارے قانونی نظام کی خامیاں اجاگرہوجاتی ہے۔ افسوسناک پہلویہ ہے کہ آج کے حالات میں ایک مخصوص فرقہ کے لئے انصاف کا حصول ناممکن نہیں تومحال ضرورہے اوراس کوشش میں بے گناہ افرادکی زندگیوں کے بیش قیمتی دن جیل کی سیاہ کوٹھری کی نذرہوجاتے ہیں، مگر اس کے لئے کسی کی جواب دہی طے نہیں کی جاتی اس لئے جولوگ ایسا کرتے ہیں ان کے حوصلہ مزید بلند ہوجاتے ہیں۔

مولانا مدنی نے اخیر میں کہا کہ ہماری نظر میں یہ انصاف اس وقت تک ادھورا ہے جب تک جوابدہی طے نہیں کی جائے گی اور بے گناہوں کی زندگیاں تباہ کرنے والوں کوئی سزا نہیں دی جائے گی،ا س افسوسناک سلسلے کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ قانون کی آڑمیں اسی طرح بے گناہوں کی زندگیوں کھلواڑ ہوتا رہے گا، بے قصور مسلمانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے افسران کے خلاف اور ان کے چہروں سے نقاب اٹھانے کے لئے جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں رہا ہونے والے ملزمین کی جانب سے ہرجانہ اور خاطی افسران کے خلاف قانونی کاروائی کے لئے بھی اپیل دائر کی گئی تھی جس پر مختلف مراحل میں بحث ہوئی اور حکومت کی جانب سے پیروی کرنے والے وکیل نے یہ کہا کہ اس طرح تو ہر رہا ہونے والا ہرجانہ اور پولس پر کاروائی کا مطالبہ کرے گا جس سے پولس کا مورل ڈاؤن ہوگا،اپیل کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر جمعیۃ علماء ہندکے سینئر ایڈوکیٹ کے۔ٹی۔ایس۔تلسی نے بحث کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ قانون ہی میں ہرجانہ اور خاطی افسران کی سرزنش کی بات کہی گئی ہے. بہر حال سپریم کورٹ کے آرڈر پر ہرجانہ کا معاملہ نچلی عدالت میں چل رہا ہے، اس فیصلہ سے یہ امید بڑھی ہے۔ انشاء اللہ ہرجانہ کا فیصلہ بے گناہ مظلومین کے حق میں جلد آے گا۔

واضح رہے کہ سن 2002 میں گجرات کے گاندھی نگر میں واقع اکشر دھام مندر پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں مندر کے زائرین اور پولس اہلکاروں کی اموات ہوئی تھی۔ حملے قریب ایک سال بعد تفتیشی ایجنسی کرائم برانچ کے جی دی بنجارا و دیگران افسران نے اچانک 30 اگست 2003 کو مفتی عبد القیوم،آدم سلیمان اجمیری،سلیم حنیف شیخ، مولانا عبد اللہ، چاند خان اور الطاف حسین ملک کو گرفتار کرکے اس معاملہ کے حل کر لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ 2007میں پوٹاعدالت نے اکشردھام مندرپر حملہ کے الزام میں گرفتارکئے گئے لوگوں میں سے تین مفتی عبد القیوم، آدم سلیمان اجمیری اور چاند خان کو پھانسی کی سزادی تھی جبکہ سلیم حنیف شیخ کو عمرقید، مولانا عبد اللہ میاں کو دس برس اورالطاف ملک کو پانچ برس قیدکی سزاسنائی تھی، سن 2010 میں گجرات ہائی کورٹ نے بھی پوٹاعدالت کے فیصلہ کو برقراررکھا تھا۔

صدرجمعیۃ علماء ہند مولاناارشدمدنی کی ہدایت پرجمعیۃ علماء ہندکی قانونی امدادکمیٹی نے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اورسپریم کورٹ نے ناکافی ثبوت کی بنیاد پر سن 2014 میں تمام ملزمین کو باعزت بری کرنے کے ساتھ ساتھ گجرات پولس اورتفتیشی ایجنسیوں کی اس بات کے لئے سخت شرزنش کی تھی کہ انہوں نے درست طریقہ سے معاملہ کی تفتیش نہیں کی اوراس میں بے گناہوں کو پھنساکر اپنی فرض سناشی ظاہر کردی تھی۔ سپریم کورٹ سے باعزت رہائی کے بعد پوٹا کورٹ سے پھانسی یافتہ ملزم مفتی عبد القیوم نے اپنی بے گناہی کے دستاویز کے طور ایک کتاب " 11 سال سلاخوں کے پیچھے" لکھی ہے۔

 

 

Ads