بغداد، 8 نومبر (مسرت ڈاٹ کام) عراق کے صوبہ میسان میں شہریوں نے ایران کے ساتھ واقع الشیب سرحدی گزرگاہ کی مسلسل بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم سرحدی راستے کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے۔ مظاہرین نے طویل عرصے سے جاری بندش پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں اور تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ واقع عراقی سرحدی گزرگاہ الشیب، جسے ایرانی جانب چذابہ کہا جاتا ہے، کی بندش کے خلاف مقامی شہریوں نے ایک بار پھر احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ عراق کے صوبہ میسان میں کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں شہریوں نے جمع ہوکر سرحدی گزرگاہ کی مسلسل بندش پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔
تفصیلات کے مطابق، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ عراقی حکام سرحدی گزرگاہ کی بندش کے معاملے کو فوری طور پر حل کریں اور آمدورفت بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ احتجاج میں شریک شہریوں کا کہنا تھا کہ اس گزرگاہ کی بندش سے نہ صرف عام لوگوں کی سرحد پار آمدورفت متاثر ہو رہی ہے بلکہ دونوں جانب کے تجارتی اور معاشی روابط بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔
مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے حکام سے اپیل کی کہ وہ مقامی آبادی کے مسائل کو سنجیدگی سے لیں اور سرحدی گزرگاہ کو مزید تاخیر کے بغیر کھولنے کا فیصلہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی راستوں کی بندش سے روزگار اور کاروبار سے وابستہ افراد بھی متاثر ہوتے ہیں، اس لیے اس مسئلے کا جلد حل نکالنا ضروری ہے۔
احتجاجی مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ سرحدی گزرگاہ کی فوری بحالی چاہتے ہیں تاکہ معمول کی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوسکیں۔
