Masarrat
Masarrat Urdu

ایران دھمکیوں اور امریکی ناجائز مطالبات کے سامنے تسلیم نہیں ہوگا، قالیباف

  • 03 Nov 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 3 نومبر (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ حملے کا غیر متوقع اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل دفاعی تیاری رکھتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی ایران کے ساتھ گہری دشمنی کی بنیادی وجہ ایرانی قوم کا اس ملک کے توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے اپنی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کو دنیا کی دیگر آزاد قوموں کے لیے ایک مثال بنا دیا ہے۔ ایرانی عوام کی یہی استقامت اور مزاحمت صیہونی حکومت اور امریکہ کو بے بسی سے دوچار کر رہی ہے۔

قالیباف نے مزید کہا کہ دشمن ایرانی قوم کی مزاحمت کے سامنے بے بس ہے اور اپنی مسلسل ناکامیوں کے بعد کبھی دھمکیوں اور کبھی فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اسے جان لینا چاہیے کہ ایران ہرگز تسلیم نہیں ہوگا۔ ایران کو جھکانے کا خواب ماضی کی ان حکومتوں کے دور سے تعلق رکھتا ہے جو بیرونی طاقتوں کی تابع اور وابستہ تھیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں کے دوران یہ سمجھ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف ناجائز مطالبات اور بالادستی کی پالیسی کا دور ختم ہوچکا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا کہ رہبر انقلاب نے دشمن کے ممکنہ حملے کے مقابلے میں ہماری فوجی حکمت عملی واضح کر دی ہے۔ اس کے تحت دشمن کی کسی بھی غلط اندازے پر مبنی کارروائی کا ہمارا فوجی اور تزویراتی جواب غیر متوقع ہوگا اور اس میں جغرافیائی حدود کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ ہم دشمن کی غلط منصوبہ بندی کو اس کے مادی اور غیر مادی اثاثوں سمیت ناکام بنا دیں گے۔

قالیباف نے علاقائی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس نے امریکی فریق کو ایک مضبوط اور دانشمندانہ جواب بھی دیا ہے۔ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ جنگ کو روکنے کے لیے کیا فیصلہ کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میدان عمل اور فوجی محاذ پر اعلیٰ ترین سطح کی دفاعی تیاری رکھتا ہے۔ اگر واشنگٹن نے دوبارہ کوئی تزویراتی غلطی کی تو اسے ایک نئے میدانِ جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ آج کے مقابلے میں مزید بے بس ہو کر فرار کا راستہ تلاش کرے گا۔

قالیباف نے قومی اتحاد و یکجہتی کو آئندہ جنگ میں ایران کا سب سے طاقتور ہتھیار اور مؤثر ترین ڈیٹرنس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اتحاد کا تحفظ تمام شہریوں کے ساتھ بالخصوص حکومتی عہدیداروں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے افواہیں پھیلانے کے برعکس، ملک کے تمام حکام اور ذمہ داران ایک منظم مرکزیت کے تحت ہر محاذ پر جدوجہد کے لیے تیار ہیں۔ ہم رہبر معظم کی دانشمندانہ ہدایات کے تحت دفاع، عوامی خدمت اور سفارت کاری کے تمام میدانوں میں اتحاد و یکجہتی کے ساتھ دشمن کی سازشوں اور اقدامات کا مقابلہ کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عوام کی بھرپور حمایت اور مسلسل کوششوں سے یہ مشکل راستہ کامیابی کے ساتھ طے کیا جائے گا۔

 

Ads