صنعا، 30 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) تحریکِ انصار اللہ یمن کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے یومِ شہید کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے تمام وسائل اور فوجی و اقتصادی طاقت کو دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی معاشروں پر ظلم کرنے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الحوثی نے شہداء کے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یومِ شہید ایک عظیم ایمانی مناسبت ہے، جو امت کو قربانی، صبر اور ثابت قدمی کا درس دیتی ہے۔ شہادت کا جذبہ قوموں کو خوف کی غلامی سے آزاد کرتا اور ظالم طاقتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں کئی طاقتیں ظلم، استحصال، تسلط اور تشدد کے ذریعے کمزور قوموں کو غلام بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں جہاد اور مزاحمت کا مقصد قوموں کو ظالموں کے تسلط سے آزاد کرانا، ان کی عزت و آزادی کا تحفظ کرنا اور معاشرے میں حق و انصاف قائم کرنا ہے۔
الحوثی نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے بے پناہ وسائل کو انسانی معاشروں کی خدمت کے بجائے تباہی اور قتل و غارت کے لیے استعمال کیا ہے۔ جوہری ہتھیاروں اور تباہ کن جنگی وسائل کے ذریعے شہروں، خواتین، بچوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی ابلاغی طاقت بھی قوموں کو گمراہ کرنے اور ان پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
یمن کے خلاف جاری جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2015 سے یمن پر حملے امریکہ کی نگرانی، اسرائیل کی حمایت اور برطانیہ کی شرکت سے جاری ہیں، جبکہ سعودی حکومت اس جارحیت کو عملی جامہ پہنانے اور اس کی مالی اعانت کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ حملوں کی منصوبہ بندی، اہداف کے تعین اور نگرانی میں شریک ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سعودی عرب اپنی بے پناہ دولت اور وسائل ایک مسلمان قوم کے خلاف جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ امریکی بموں سے 14 ہزار سے زائد زرعی کھیتوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یمنی عوام کو ان کے قومی وسائل سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اس صورتِ حال نے ملک کے صحت، تعلیم اور عوامی خدمات کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔
عبدالملک الحوثی نے کہا کہ یمن کے عوام امریکی، اسرائیلی اور مغربی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کے خلاف جارحیت اور محاصرہ ختم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ جاری رکھنے سے سعودی عرب کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب سے ان کی مراد سعودی حکومت ہے، جزیرہ نمائے عرب کے عوام نہیں۔ ان کے مطابق سعودی حکومت اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔
آخر میں الحوثی نے کہا کہ سعودی جارحیت کی حمایت کرنے والے بھی اس کے نتیجے میں ہونے والے جرائم کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے تعز شہر کے محاصرے سے متعلق سعودی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں غذائی اشیا، ادویات اور دیگر انسانی ضروریات کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
یہ مختصر متن اصل تقریر کے بنیادی نکات اور الزامات کو برقرار رکھتے ہوئے غیر ضروری تکرار سے پاک کیا گیا ہے۔
