Masarrat
Masarrat Urdu

ایمباپے کی معذرت، چینی کمپنیوں نے معاہدے ختم کردیئے

Thumb

پیرس، 29 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) فرانس کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کائیلیان ایمباپے کو چین کے بانی رہنما ماؤ زے تنگ سے متعلق مذاق کرنا مہنگا پڑ گیا، جہاں ان کے تبصرے کے بعد شدید ردعمل سامنے آنے پر تین چینی کمپنیوں نے ان کے ساتھ معاہدے ختم کردیئے جبکہ لالیگا کی نشریات بھی معطل کردی گئیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فرانسیسی پروگرام ’دی برج‘ کو دیے گئے ایک ویڈیو انٹرویو میں ایمباپے سے پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر ان کی بننے والی میمز میں سے انہیں کون سی میم سب سے زیادہ پسند ہے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں اس تصویر کا ذکر کیا جس میں ان کا چہرہ ماؤ زے تنگ کی تصویر پر لگایا گیا تھا۔ چین میں ماؤ زے تنگ کو بانی رہنما کی حیثیت سے خاص اہمیت حاصل ہے، اس لیے ان کے حوالے سے مذاق کو حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد چینی سوشل میڈیا پر ایمباپے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں چینی کمپنیوں ڈونگ پینگ بیوریج، ڈیری کمپنی مینگنیو اور ملک گراؤنڈ نے ایمباپے کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے الفاظ اور اقدامات برداشت نہیں کرسکتیں جن سے چینی عوام کے جذبات مجروح ہوں۔

اس کے علاوہ چائنا میڈیا گروپ نے اسپین کی فٹبال لیگ لالیگا کے میچز کی نشریات بھی معطل کردیں۔ لالیگا کے صدر خاویر تیباس نے چینی شائقین کو پہنچنے والی تکلیف پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ ریال میڈرڈ نے بھی ایمباپے کے تبصروں پر چینی عوام سے معذرت کرتے ہوئے چین کی تاریخ، ثقافت اور شہریوں کے احترام کا اعادہ کیا۔

فرانس کی قومی ٹیم کے کپتان ایمباپے نے منگل کو فرانسیسی، چینی اور انگریزی زبانوں میں جاری بیان میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تبصرہ غیر محتاط تھا اور اب انہیں احساس ہے کہ اس سے چین اور دنیا بھر میں چینی برادری کے بہت سے افراد کو دکھ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کسی کی دل آزاری کا ارادہ نہیں تھا، وہ چینی عوام اور ان کی تاریخ کا دل کی گہرائی سے احترام کرتے ہیں اور معذرت خواہ ہیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے بدھ کو معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ بیجنگ ایمباپے کی جانب سے کی گئی معذرت کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ تاہم ان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ تبصرے کے بعد چین کی جانب سے کیے گئے اقدامات واپس لیے جائیں گے یا نہیں۔

واضح رہے کہ ایمباپے نے اپنے تبصرے میں ماؤ زے تنگ کا نام نہیں لیا تھا، تاہم اسے سوشل میڈیا پر اسی تصویر کی جانب اشارہ سمجھا گیا۔ بعد ازاں فرانسیسی فٹبالر کے انٹرویو سے متعلق ویڈیو بھی ہٹا دی گئی۔

 

Ads