یونیورسٹی کی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے ویڈیو، جو خود احتجاج کرنے والے طلبہ کی طرف سے پوسٹ کی گئے ہیں، سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہے ہیں، اس سے یونیورسٹی کمیونٹی کے افراد شدید غم و غصے میں ہیں۔
انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو احتجاج کرنے والے طلبہ کمیٹی کے اراکین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے (کل شام ہونے والی بات چیت کی کوشش، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی ساتویں کوشش تھی) اور دوسری طرف اس کے فوراً بعد کیمپس میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی طرح یہ امر بھی انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ جب خواتین فیکلٹی ممبران، وارڈنز اور پرووسٹس نے احتجاج کرنے والی طالبات کو سمجھانے کی کوشش کی، تو انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ ایسا رویہ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے، بلکہ یہ مذاکرات اور پرامن احتجاج کی اصل روح کے منافی بھی ہے اور اسے کمزور کرتا ہے۔
گزشتہ رات پیش آنے والے واقعات، ایک ایسے ہفتے کے بعد رونما ہوئے ہیں جس میں یونیورسٹی کے دروازے اور چار دیواری پر چڑھنے، انھیں نقصان پہنچانے اور توڑنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے تھے۔ تاہم ستائیس اکتوبر کی رات ہونے والی تباہی کی وسعت، رفتار اور شدت نے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ویڈیوز، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے بھاری لوہے کی سلاخوں، ہتھوڑوں اور دیگر آلات کا استعمال کیا گیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب یونیورسٹی چوبیس اکتوبر دوہزار چھبیس کو جاری اعلامیے کے مطابق، پہلے ہی آن لائن تدریسی نظام کی طرف منتقل ہو چکی تھی۔
تباہی کے مناظر دیکھ کر، تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے ارکان نے رات بھر پیش آنے والے واقعات پر شدید صدمے اور مایوسی کا اظہار کیا۔ توڑ پھوڑ کے ان واقعات نے طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت اور سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی کا بنیادی ڈھانچہ، کلاس رومز، لیبارٹریاں اور لائبریریاں، نیز ان کا حفاظتی نظام اور آمد و رفت کے راستے، کیمپس میں ایک محفوظ ماحول برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان سہولیات کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان نہ صرف بڑے پیمانے پر مادی اور مالی نقصان کا باعث بنتا ہے، بلکہ اس سے پوری یونیورسٹی کمیونٹی کی حفاظت اور بہبود بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
