سکریٹریٹ کے مطابق، یہ معاہدہ فوجی سازوسامان کی فروخت تک محدود تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے مشترکہ پیداوار، سپلائی چین کے انضمام اور مسلح افواج کے درمیان بہتر تال میل کے لیے کثیر ملکی تعاون کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد بنے گا۔
سکریٹریٹ نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان نے دفاعی شراکت داریوں کو خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون بنایا ہے، جبکہ سکریٹری ہالوک گورگن نے بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدات میں اضافے پر خصوصی توجہ دی ہے۔
دفاعی و فضائی صنعت کے برآمد کنندگان کی یونین کے مطابق، 2012 سے ستمبر 2026 تک ترکیہ کی دفاعی اور فضائی صنعت کی برآمدات تقریباً 54 ارب ڈالر رہیں۔ ان میں سے 30 ارب ڈالر سے زیادہ کی برآمدات گزشتہ چار برسوں میں ہوئیں، جو مجموعی برآمدات کا 55 فیصد سے زیادہ ہے۔
سال 2025 میں ترکیہ کی دفاعی و فضائی صنعت کی برآمدات سالانہ بنیاد پر 48 فیصد بڑھ کر 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں، جبکہ گزشتہ 12 ماہ کی مجموعی برآمدات پہلی بار 11 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگئیں۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق، ترکیہ کی مجموعی دفاعی فروخت میں نیٹو کے رکن ممالک کا حصہ 56 فیصد ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں 122 فیصد اضافے کے بعد ترکیہ دنیا کا 11واں سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
قطر کے ساتھ ترکیہ کے دفاعی تعاون میں بائراکتار ٹی بی 2 ڈرون، بکتر بند گاڑیاں اور تیز رفتار حملہ آور کشتیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ترکیہ کی کمپنی ایسیلسان اور قطر کی برزان ہولڈنگز کے مشترکہ منصوبے ’بارک‘ کے تحت مقامی سطح پر ’ایس اے آر پی‘ ہتھیاروں کے نظام تیار کیے جارہے ہیں۔
پاکستان کے ساتھ پی این ملجم منصوبے کے تحت ترکیہ کی کمپنی اسفات نے استنبول میں تیار کیے گئے بابر کلاس کے دو کارویٹ جنگی جہاز پاکستان کے حوالے کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کراچی شپ یارڈ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا جارہا ہے تاکہ باقی دو جنگی جہازوں کی تیاری مکمل کی جاسکے۔
انڈونیشیا کے ساتھ کپلان ایم ٹی ٹینک پروگرام میں ترکیہ کی کمپنی ایف این ایس ایس اور انڈونیشیا کی پی ٹی پنداد ٹیکنالوجی کی منتقلی کے انتظام کے تحت مقامی سطح پر پیداوار کررہی ہیں۔
توقع ہے کہ دوحہ میں مجوزہ مفاہمتی یادداشت ان دوطرفہ تعاون کے منصوبوں کو چاروں ممالک کے مشترکہ پروگراموں میں وسعت دینے کے لیے باضابطہ طریقۂ کار فراہم کرے گی۔ اس کا مقصد فوجی سازوسامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پائیدار پیداواری ڈھانچہ بھی تیار کرنا ہے۔
