Masarrat
Masarrat Urdu

جماعت اسلامی ہند کا ریس کورس مسجد کے تحفظ اور بنیادی سہولیات کی بحالی کا مطالبہ

  • 21 Oct 2026
  • مسرت ڈیسک
  • مذہب
Thumb

نئی دہلی،21 اکتوبر(مسرت ڈاٹ کام) جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے نئی دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کے تحفظ، اس کی بنیادی سہولیات کی فوری بحالی اور نمازیوں کے لیے مسجد میں آمد و رفت کو بلا روک ٹوک یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مسجد کو خالی کرنے کے نوٹس اور اسے منہدم کیے جانے کے خدشے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میڈیا کو جاری ایک بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ تاریخی ریس کورس مسجد، جہاں برسوں سے لوگ عبادت کرتے آرہے ہیں، کو خالی کرنے کا نوٹس دینا اور اس کے انہدام کا خطرہ پیدا ہونا انتہائی تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق یہ مسجد 1977 سے سرکاری گزٹ میں اوقاف کی جائیداد کے طور پر درج ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ مسجد کی دستاویزی حیثیت اور متعلقہ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے مسجد اور اس سے متصل قبرستان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ملک معتصم خان نے مسجد کی بجلی منقطع کیے جانے اور اسے خالی کرنے کے لیے امام مسجد پر مبینہ غیر قانونی دباؤ ڈالے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی اور پانی کی سہولیات فوری طور پر بحال کی جائیں اور نمازیوں کے لیے مسجد تک رسائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔ انتظامیہ کو اپنے اقدامات کی قانونی بنیاد واضح کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ عبادت گاہوں اور نمازیوں کے احترام کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے وقف بورڈ کی جانب سے مبینہ بے دخلی کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی نہ کیے جانے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کی جائیدادوں کے تحفظ کی ذمہ داری ادا کرنے والے اداروں کو مستعدی سے کام لینا چاہیے اور ایسی املاک کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں بروقت قانونی اقدامات کرنے چاہئیں۔

ملک معتصم خان نے کہا کہ ریس کورس مسجد سمیت دیگر مساجد کو انہدام کے خطرات کا سامنا ہونے سے مسلم برادری میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور ایسے اقدامات کے پس پردہ مقاصد کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ غیر منصفانہ فیصلوں سے گریز کیا جائے اور انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، تاکہ فرقہ وارانہ سیاست اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ نہ ملے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریس کورس مسجد اور اس سے متصل قبرستان کو تحفظ فراہم کیا جائے، مسجد کی بنیادی سہولیات بحال کی جائیں، نمازیوں کی آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے اور انہدام سے متعلق تمام کارروائیاں روک دی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی اور دہلی حکومت کو مسجد کی دستاویزی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو قانونی تقاضوں کے مطابق اور شفاف طریقے سے حل کرنا چاہیے۔

ملک معتصم خان نے زور دیا کہ ملک میں مساوات، عوامی اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے تمام عبادت گاہوں کو یکساں تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

 

Ads