Masarrat
Masarrat Urdu

ایس آئی آر پر کھڑگے کی بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر شدید تنقید، 400 سے زائد فارم پر سوال

Thumb

بنگلورو، 4 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے ہفتہ کو ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر شدید حملہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر سیکڑوں پہلے سے چھپے ہوئے فارم تقسیم کیے جانے پر سوال اٹھایا اور اس پورے عمل کی شفافیت کے بارے میں وضاحت طلب کی۔

بی جے پی کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ قواعد کے تحت کسی ایسے شخص کو 400 سے 500 فارم نہیں دیے جاسکتے جو بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بوتھ لیول ایجنٹ کو بھی پہلے سے چھپے ہوئے فارم فراہم نہیں کیے جاسکتے۔

انہوں نے سوال کیاکہ ’’اگر وہ بی ایل اے نہیں ہیں تو انہیں 400 سے 500 فارم نہیں دیے جاسکتے۔ اگر وہ بی ایل اے ہیں تب بھی پہلے سے چھپے ہوئے فارم نہیں دیے جاسکتے۔ پھر 400 سے زائد فارم کہاں سے آئے؟‘‘

وزیر نے کہا کہ معاملہ صرف فارم کا نہیں بلکہ پورے ایس آئی آر عمل کی ساکھ کا ہے۔

انہوں نے سابق الیکشن کمشنروں کی جانب سے اس عمل پر کی گئی تنقید اور بہار و مغربی بنگال میں سامنے آنے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

ایس آئی آر کو ’’ڈراما‘‘ قرار دیتے ہوئے کھڑگے نے الزام لگایا کہ عوام خود اس عمل پر سوال اٹھا رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ’’سچ چھپانے‘‘ کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر ’’مرکز کے کٹھ پتلی‘‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

کھڑگے نے فارم-6 کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات اتنے سنگین ہیں کہ اس نظام کا آئی آئی ٹی سے آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ ’’اگر سافٹ ویئر میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی تو پھر اس کا آڈٹ کیوں کرایا جا رہا ہے؟ جب آئی آئی ٹی کا آڈٹ ہو رہا ہے تو کوئی پہلے سے یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی؟ یہ بات ثابت ہونی چاہیے۔‘‘

انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو عدالتی تحفظ فراہم کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے اقدام پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اس طرح کے تحفظ کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ سابق چیف الیکشن کمشنروں نے کبھی اس طرح کے تحفظ کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔

یہ بیان ایس آئی آر کے معاملے پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے۔ بی جے پی جہاں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کو نشانہ بنا رہی ہے، وہیں کانگریس نے الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار اور اس پورے عمل کی ساکھ پر سوال اٹھائے ہیں۔

کھڑگے نے کہا کہ بہار، مغربی بنگال اور ہریانہ میں ہونے والی پیش رفت اور سابق انتخابی عہدیداروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے پیش نظر ایس آئی آر کے عمل کی باریک بینی سے جانچ اور اسے انجام دینے والے حکام سے جواب دہی ضروری ہے۔

 

Ads