پارٹی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امِت شاہ کی کٹھ پتلی بن کر کام کر رہا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اقتدار کی ہوس میں کروڑوں لوگوں کو ایس آئی آر کے نام پر ووٹنگ کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے طور پر مسٹر مودی کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ کروڑوں لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم ہونے سے بچائیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سی ڈبلیو سی کی میٹنگ کے بعد منگل کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس اس معاملے پر مخالفت اور مزاحمت دونوں کر رہی ہے اور پرامن لیکن جارحانہ انداز میں اس کی مخالفت جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں 'میچ فکسنگ' ہو رہی ہے اور یہ معاملہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دو سال پہلے اٹھایا تھا، تب کسی کو اس پر یقین نہیں ہوا لیکن آج وہی سچ ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت جمہوریت کو ختم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھا رہی ہے۔ ملک میں 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم کیا گیا ہے، اس لیے مسٹر مودی کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ کروڑوں لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم ہونے سے بچائیں۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ حالیہ رپورٹوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان میں موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی میعادکار میں الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے آر ایس ایس-بی جے پی نے پورے انتخابی عمل پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان انکشافات سے مسٹر گاندھی کی جانب سے مسلسل ظاہر کیے جانے والے خدشات کی تصدیق ہوتی ہے۔
سی ڈبلیو سی کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے مسلسل ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کے انتخابی اور جانبدارانہ انداز میں نافذ کیے جانے، ای وی ایم کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالات، ووٹر فہرستوں میں من مانے انداز میں نام ہٹانے، چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے تبدیل شدہ طریقہ کار نیز چیف الیکشن کمشنر کو تاحیات قانونی تحفظ دیے جانے جیسے امور کو اٹھایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ورکنگ کمیٹی نے کہا ہے کہ دو الیکشن کمشنروں نے دس مہینوں میں 14 اعتراضات درج کرائے اور خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) میں استعمال ہونے والے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں کو 'غیر مجاز' اور 'غیر قانونی' قرار دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ دونوں اعتراضات ادارہ جاتی حقوق کی پامالی کے ایک پیٹرن کو اجاگر کرتے ہیں۔
ورکنگ کمیٹی نے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت پر بھی سنگین تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اب تک 13 کروڑ 30 لاکھ ہندوستانیوں کے نام ووٹر لسٹوں سے ہٹائے گئے ہیں۔ شہریوں پر اپنی اہلیت خود ثابت کرنے کا بوجھ ڈالنا اور ایسے طریقہ کار کو بغیر کسی شفاف حفاظتی تدابیر کے جلد بازی میں نافذ کرنا آئین کے آرٹیکل 14 اور آرٹیکل 326 کے تحت درج اصولوں کے عین مطابق نہیں مانا جا سکتا۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ پارٹی اس لڑائی کو عوام کے درمیان اور ہر دستیاب پلیٹ فارم پر لے جا چکی ہے۔ بہار میں ووٹر ادھیکار یاترا، کرناٹک، مہاراشٹر اور ہریانہ میں ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری کو اجاگر کرنے والی پریس کانفرنسیں، ملک گیر 'ووٹر چوری' مہم، الیکشن کمیشن کے ساتھ بات چیت، طریقہ کار میں تبدیلیوں کے خلاف تحریری اعتراضات، ایس آئی آر کو قانونی چیلنج، پارلیمنٹ میں انڈیا اتحاد کا احتجاج نیز الیکشن کمیشن تک مارچ کا ذکر کیا گیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کانگریس پارلیمنٹ میں، عدالتوں میں اور سڑکوں پر تب تک اس کی مخالفت کرے گی، جب تک قصورواروں کو سزا نہیں مل جاتی، ہر شہری کا ووٹ محفوظ نہیں ہو جاتا اور الیکشن کمیشن کو ایک آزاد آئینی ادارے کے طور پر دوبارہ قائم نہیں کر دیا جاتا۔
