مسٹر کھرگے نے منگل کے روز یہاں پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز اکائی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے سامنے ملک کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کی تاریخی ذمہ داری ہے، لیکن آج ملک کے شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر مودی حکومت کی کٹھ پتلی بن کر کام کر رہے ہیں اور حکام کی من مرضی سے ووٹروں کے نام کاٹے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے حقِ رائے دہی کو جمہوریت کی سب سے بنیادی چیز بتایا تھا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کی لڑائی کسی پارٹی، ادارے یا فرد کے خلاف نہیں، بلکہ ہندوستان کے ووٹروں کے حقوق، آئین اور جمہوری نظام کو بچانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اتنا مضبوط اور قابلِ اعتماد ہونا چاہیے کہ اقتدار میں شامل طبقہ اور اپوزیشن دونوں اس کے فیصلوں پر یکساں بھروسہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پانچ واضح مطالبات ہیں کہ ووٹر لسٹ میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کا پورا ڈیٹا عام کیا جائے، ہٹائے گئے ووٹروں کو اس کی اطلاع اور اپیل کرنے کا موقع ملے، سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹ سے متعلق ضروری ڈیٹا وقت پر آسان فارمیٹ میں دستیاب ہو، سنگین بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور مقررہ وقت کے اندر جانچ ہو نیز انتخابی عمل سے جڑے اہم ڈیٹا اور فیصلوں میں شفافیت رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹروں کو یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ ان کا ووٹ محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں اور حکومتیں بھی آتی جاتی ہیں، لیکن جمہوریت اور آئین مستقل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مہادیوپورا، آلند نیز ہریانہ اور مہاراشٹر میں ووٹر کے اعداد و شمار سے جڑے سنگین سوالات دستاویزات کے ساتھ اٹھائے تھے۔ اگر الیکشن کمیشن نے ان امور پر سنجیدگی دکھائی ہوتی تو اس کی ساکھ بچی رہتی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کی سرگرمیوں کو من مانا اور نا مناسب بتایا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے نیز وزیرِ اعظم سے اخلاقیات کی بنیاد پر استعفے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی ووٹر کا حق نہ چھینا جائے، ہر شخص کا ووٹ محفوظ رہے اور انتخابات غیر جانبدارانہ ہوں۔
