ذرائع نے اس سے پہلے دونوں ممالک کے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی اور ایرانی نمائندوں نے پیر کو مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر ثالث ممالک کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی تھی۔
ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے مسٹر عراقچی کے حوالے سے کہا کہ ’’ہم نے قطر کے ثالثوں کے ساتھ ایران کی شرائط پوری کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ کا جواب قطر کے ثالثوں کے ذریعے ایران کو بتایا جائے گا۔ امید ہے کہ یہ جواب کل تک مل جائے گا۔‘‘
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران نے علاقائی بحران کو حل کرنے کے لیے ’’اگر امریکہ کسی معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے تو‘‘ ایک حل پیش کیا ہے۔
ایران نے اس سے پہلے امریکہ کی جانب سے سمندری ناکہ بندی اور تیل کی درآمد پر عائد پابندی ہٹانے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کی 7 روزہ تجویز پیش کی تھی۔ تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
مسٹر عراقچی نے اس کے باوجود اتوار کی رات کہا کہ مسٹر ٹرمپ کے بیان کے باوجود ایران ثالثوں کے آخری جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
