Masarrat
Masarrat Urdu

جموں و کشمیر اسمبلی نے مکمل ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کی قرارداد منظور کرلی

Thumb

سری نگر، 28 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت ہند سے مرکز کے زیر انتظام خطے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور بلاتاخیر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد صوتی ووٹ سے منظور کی گئی۔ بی جے پی کو چھوڑ کر تمام جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔

قرارداد کی منظوری سے قبل جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر مرکز سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسے ’’جلد از جلد‘‘ بحال کرنے کی ہدایت کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے لیے دو سال انتظار کیا جائے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت اسمبلی انتخابات کے بعد سے مرکز کی جانب سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کے وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’اسپیکر صاحب، مجھے بتائیے کہ کس انگریزی میں ’جتنی جلد ممکن ہو‘ کا مطلب دو سال ہوتا ہے؟ کس انگریزی میں ’جلد از جلد‘ کا مطلب دو سال ہوتا ہے؟‘‘

عمر عبداللہ نے دسمبر 2023 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جموں و کشمیر میں ستمبر 2024 تک انتخابات کرانے اور ریاستی حیثیت ’’جلد از جلد‘‘ بحال کرنے کی ہدایت دی تھی۔ موجودہ اسمبلی اکتوبر 2024 میں منتخب ہوئی، جبکہ عمر عبداللہ کی جانب سے 25 ستمبر کو پیش کی گئی قرارداد میں ریاستی حیثیت ’’فوری اور بلاتاخیر‘‘ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ریاستی حیثیت کی بحالی کو جموں و کشمیر کی سکیورٹی صورت حال سے جوڑا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ اسے (ریاستی حیثیت کی بحالی کو) ملی ٹنسی سے جوڑ رہے ہیں؟ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک جموں و کشمیر میں بندوقیں خاموش نہیں ہوجاتیں، ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جائے گا؟‘‘

عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ریاستی حیثیت کی بحالی کو ملی ٹنسی کے مکمل خاتمے سے مشروط کیا گیا تو اس فیصلے کا اختیار بالآخر نئی دہلی کے بجائے پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ ’’مرکزی حکومت بار بار کہتی ہے کہ ملی ٹنسی پاکستان سے شروع ہوئی اور گزشتہ 35 برس سے یہاں ملی ٹنسی جاری ہے۔ لہٰذا جب آپ کہتے ہیں کہ بندوقیں خاموش ہونے پر ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی تو آپ یہ فیصلہ پاکستان کے حوالے کر رہے ہیں کہ جب بھی بندوقیں خاموش ہوں گی، آپ ہمیں ریاستی حیثیت بحال کریں گے۔ کیا ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہماری ریاست کے بارے میں فیصلہ ہماری اپنی حکومت نہیں کرے گی؟ کیا ہم نے یہ طے کرلیا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ہمارے وزیر اعظم نہیں دیں گے؟ کیا یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک میں ہوگا؟ اگر ایسا طے کیا گیا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کیونکہ ہمارا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ اگر یہ فیصلہ کہیں ہونا ہے تو نئی دہلی میں ہوگا۔ یہ فیصلہ کہیں اور نہیں ہوگا۔‘‘

بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر مرکز سے کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر کو کسی احسان کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ہم بھکاری نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے حقوق اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ مرکز کی طرف سے کوئی احسان نہیں ہے۔ یہ مرکز کی طرف سے کوئی تحفہ نہیں ہے۔ مرکز نے جموں و کشمیر کے عوام سے وعدہ کیا ہے۔ مرکز کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے قرارداد کے الفاظ کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں خاص طور پر ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اسمبلی سے آرٹیکل 370 یا خودمختاری پر ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

25 ستمبر کو عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں حکومت ہند سے ’’جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور بلاتاخیر بحال‘‘ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ 26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اسمبلی سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ ہے۔

سال 2000 کی خودمختاری سے متعلق قرارداد کا حوالہ حکمران جماعت کے ارکان اور بی جے پی ارکان کے درمیان تنازع کا اہم سبب بن گیا۔ بی جے پی ارکان کا کہنا تھا کہ وہ ریاستی حیثیت کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ہیں، لیکن خودمختاری اور آرٹیکل 370 کو بحث میں شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

عمر عبداللہ نے متعدد انتظامی مسائل کا بھی حوالہ دیا، جن میں کاروباری قواعد کی منظوری زیر التوا ہونا، ایڈووکیٹ جنرل کی عدم موجودگی اور کئی اداروں پر منتخب حکومت کے محدود اختیار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی عدم موجودگی روزمرہ حکومتی امور کے کام کاج کو متاثر کرتی ہے۔

عمر عبداللہ نے ان حالات پر بھی سوال اٹھایا جن میں ان کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کے سلسلے میں محکمہ قانون کی رائے اور چیف سیکریٹری کی جانب سے اسپیکر کو خط بھیجا گیا۔

انہوں نے اسپیکر سے پوچھاکہ ’’کیا آپ کو محکمہ قانون کی جانب سے یہ رائے ملی تھی کہ اس قرارداد پر بحث زیرِ سماعت معاملے (سب جوڈیس) سے متعلق ہے اور اسے اجازت نہیں دی جانی چاہیے؟‘‘

انہوں نے کہاکہ ’’بطور وزیر قانون، مجھے علم نہیں ہے کہ میرے قانون سکریٹری نے آپ کو کوئی رائے بھیجی ہے۔ آپ ان سے پوچھیں کہ یہ کس کی ہدایت پر کیا گیا۔ بطور وزیر اعلیٰ مجھے علم نہیں ہے کہ چیف سکریٹری میری قرارداد کے بارے میں آپ کو خط بھیج رہے ہیں۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسی صورت حال مرکز کے زیر انتظام خطے کے موجودہ ڈھانچے کی حدود کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کسی ریاست میں وزیر اعلیٰ ایک قرارداد پیش کرے اور قانون سکریٹری اس کے خلاف رائے دے۔ ایسا صرف مرکز کے زیر انتظام خطے میں ہوسکتا ہے۔‘‘

عمر عبداللہ نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کرنے کے معاملے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے اسے انتظامی تاخیر کی ایک مثال قرار دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، لیکن اس نے ابھی تک اپنی رپورٹ پیش نہیں کی ہے۔انہوں نے سوال کیاکہ ’’اگر ہم ایک ریاست ہوتے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسی رپورٹ تیار کرنے میں ایک سال سے زیادہ وقت لگتا؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل کہیں زیادہ جلد مکمل کیا جاسکتا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے ریزرویشن کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ ان کی حکومت نے ریزرویشن اور اوپن میرٹ زمرے سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے عمل شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر سکینہ ایتو کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ پیش کردی تھی، جسے بعد میں کابینہ نے بھی منظوری دے دی۔

عمر عبداللہ کے مطابق اس کے بعد تجویز لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی گئی اور پھر ان کی جانب سے رائے اور جانچ کے لیے حکومت ہند کو بھیج دی گئی۔

انہوں نے کہاکہ ’’مرکزی حکومت نے کچھ سوالات اٹھائے۔ ان سوالات کے جوابات تیار کیے گئے۔ کابینہ نے انہیں منظور کیا۔ منظوری کے بعد ہم نے اپنا فیصلہ دوبارہ لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دیا۔‘‘

تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت اب بھی اس معاملے پر فیصلے کی منتظر ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’اس دن سے آج تک ہمیں ریزرویشن کے معاملے پر کوئی فیصلہ نظر نہیں آیا۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے اس معاملے کو بھی موجودہ انتظامی نظام کی ایک مثال قرار دیا جس کی وجہ سے منتخب حکومت کی فیصلے کرنے اور انہیں مناسب وقت کے اندر نافذ کرنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے۔

بعد میں عمر عبداللہ نے ارکان اسمبلی سے ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کے مطالبے کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہاکہ ’’میں چاہتا ہوں کہ یہ قرارداد اس ایوان سے منظور ہو۔‘

اسپیکر نے کہا کہ قرارداد کو اسمبلی کی جانب سے جموں و کشمیر کی آئینی اور سیاسی حیثیت سے متعلق پہلے منظور کی گئی دو قراردادوں کے اضافے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اسپیکر نے واضح کیا کہ سابقہ قراردادیں برقرار ہیں اور موجودہ قرارداد کا مقصد ان میں مداخلت کرنا نہیں ہے۔ بعد میں بی جے پی ارکان کو چھوڑ کر ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔

اس سے قبل قرارداد میں 10 ترامیم پیش کی گئی تھیں، جن میں حکمران نیشنل کانفرنس کے کئی ارکان کی جانب سے پیش کردہ ترامیم بھی شامل تھیں۔ متعدد ارکان نے مجوزہ قرارداد میں آرٹیکل 370، آرٹیکل 35اے اور خودمختاری کے حوالوں کو شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم ارکان نے بعد میں یہ ترامیم واپس لے لیں۔

 
 
 

Ads