تہران، 28 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے سابق سربراہ سید حسن نصراللہ کے قتل کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور انہیں سزا دلانے کے لیے اپنی اخلاقی اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داری پوری کرے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے لبنان پر اسرائیلی حملے اور نصراللہ سمیت ان کے ساتھیوں پر حملے کو ایک گھناؤنا اور ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اس کی مذمت کی۔ ان کے ساتھیوں میں ایرانی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عباس نیلفروشان بھی شامل تھے۔
تفصیلات کے مطابق سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ وقت گزرنے یا جرائم کے بار بار ارتکاب اور ان میں اضافے سے انصاف کے مطالبے اور مجرموں کو سزا دلانے کی جدوجہد میں معمولی سی بھی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران لبنان کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی آزادی، علاقائی سالمیت، خودمختاری اور قومی اتحاد کی حمایت کے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ ایک مضبوط اور آزاد لبنان، جو اپنے عوام اور سرزمین کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، پورے خطے میں استحکام اور پائیدار سلامتی کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی جارحیت اور قبضے کے خلاف لبنانی مزاحمت کی تین دہائیوں پر مشتمل قیادت کے دوران سید حسن نصراللہ نے شجاعت، بصیرت، تدبر اور قوت کی ایک بے مثال مثال پیش کی۔ شہید حسن نصراللہ کی دیرپا میراث لبنان اور خطے کے عوام کے ذہنوں اور ثقافت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق لبنان، خطے اور دنیا کے عوام اس حقیقت کو زیادہ سے زیادہ سمجھ رہے ہیں کہ ایسے نسل پرستانہ اور آمرانہ نظام کے قبضے اور جنگ پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے باوقار مزاحمت کا تسلسل ضروری ہے جو اپنے جرائم اور ظلم کی کوئی حد تسلیم نہیں کرتا اور اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔
ایران نے مزاحمت کی راہ میں شہید ہونے والی دیگر شخصیات کو بھی خراج عقیدت پیش کیا، جن میں ایران کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی، عراقی کمانڈر ابو مہدی المہندس، حماس کے سیاسی بیورو کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ، حماس کے رہنما یحییٰ سنوار اور یمنی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد عبدالکریم الغماری شامل ہیں۔
سید حسن نصراللہ 27 ستمبر 2024 کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں ایک بڑے اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ حملے میں علاقے میں متعدد رہائشی عمارتوں کو بنکر شکن گولہ بارود سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ حزب اللہ نے اگلے روز نصراللہ کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
