انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی جانچ شفاف طریقے سے کرائی جائے۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ شالیمار باغ مسجد واقعے سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ ایم سی ڈی نے اس کارروائی کے ذریعے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے اوراپنے آئینی فرائض کو منصفانہ اور غیر جانب دارانہ طریقے سے انجام دینے سے انحراف کیا ہے۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ 15 ستمبر کو ٹریبونل نے ہدایت دی تھی کہ اگلی سماعت تک مسجد کے گراؤنڈ فلور کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے۔ 21 ستمبر کو جب وکلا کے عدالتی کام سے الگ رہنے کے باعث معاملے کی سماعت نہیں ہو سکی تو ٹریبونل نے ہدایت دی کہ اگر عبوری احکامات نافذ ہیں تو وہ 3 دسمبر تک جاری رہیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ایم سی ڈی کو معلوم تھا کہ مدینہ مسجد کا معاملہ ایم سی ڈی اپیلیٹ ٹریبونل کے سامنے زیرِ سماعت ہے تو پھر اس نے بلڈوزر کی کارروائی کیوں کی؟ بلڈوزر ایکشن کا حکم کس نے دیا اوراس کارروائی کو رات کے اندھیرے میں خفیہ طریقے سے کیوں انجام دیا گیا؟ ملک معتصم خان نے مزید کہا عدالت میں معاملہ زیر سماعت ہونے کے باوجود 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی شب مسجد کے بالائی حصوں کو بلڈوز کیا جانا انتظامیہ کی کارروائی کے طریقۂ کار اور وقت کے حوالے سے کئی سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔ حکام کو واضح کرنا چاہیے کہ 3 ستمبر 2026 کے حکم میں ٹھیک طور پر کیا کچھ شامل تھا، مسجد کے کون کون سے حصے بلڈوز کئے گئے اور ٹریبونل کی طرف سے جاری عبوری ہدایات کے مطابق یہ کارروائی کس طرح انجام دی گئی ؟
انہوں نے کہا کہ مسجد کے نمائندوں کی جانب سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بلڈوزر کی کارروائی سے قبل انہیں قرآنِ مجید اور دیگر مذہبی اشیا کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ یہ الزام انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور متعلقہ حکام کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا( بی این ایس) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ ملک معتصم خان نے اپنے بیان کے آخر میں کیا کہ ہم ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایم سی ڈی کی غیر قانونی کارروائیوں کے باوجود دہلی کے مسلمان آئین میں دی گئی ضمانت کے مطابق اپنے مذہب پرعمل کرنے، اپنی مذہبی شناخت قائم رکھنے، ثقافت اور روایات کو برقرار رکھنے کے حقوق پرذرہ برابرسمجھوتا نہیں کریں گے۔ کسی عبادت گاہ کو بلڈوز کرنا کسی تنازعے کو حل کرنے کا متبادل قطعی نہیں ہو سکتا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
