بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، سابق نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ، دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال، راجیہ سبھا ایم پی کپل سبل، سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا سمیت کئی معروف شخصیات کو ایس آئی آر کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر معاملے ایسے ہیں جہاں موجودہ ووٹر ریکارڈ کو سال 2002 میں ہوئی پچھلی ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ سے لنک نہیں کیا جا سکا یا تفصیلات میں عدم مطابقت ملی۔
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے 18 ستمبر کو ایس آئی آر کے تحت تقریباً 33.1 لاکھ ایسے ووٹرز کی پولنگ اسٹیشن وار فہرست جاری کی، جنہیں نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ یہ تعداد دہلی کی مسودہ ووٹر لسٹ میں شامل تقریباً 97.5 لاکھ ووٹرز کے ایک تہائی سے زیادہ ہے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کی اہلیہ کیوکو جے شنکر کو نوٹس ملا ہے۔ دونوں کے ریکارڈ کو ”ان میپڈ ود لاسٹ ایس آئی آر“ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ مسٹر کیجریوال اور ان کے خاندان کے کچھ ارکان کے نام پچھلی ایس آئی آر سے میپ نہیں ہو پائے۔ سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ اور ان کی اہلیہ سودیش دھنکھڑ کو بھی نوٹس ملا ہے۔ ان کے ووٹر ریکارڈ میں درج معلومات کو پچھلی ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ سے جوڑنے میں عدم مطابقت سامنے آئی۔
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر نے 20 ستمبر کو کہا کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل ووٹرز میں سے دو زمروں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ پہلے زمرے میں وہ ووٹرز ہیں جن کا ریکارڈ پچھلی تفصیلی نظرثانی کی ووٹر لسٹ سے لنک نہیں ہو پایا۔ دوسرے زمرے میں وہ ووٹرز ہیں جن کی لنکنگ تفصیلات میں منطقی عدم مطابقت ملی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ یہ سسٹم سے تیار کردہ نوٹس ہیں اور ان کا مقصد ڈیٹا کو ٹھیک کرنا ہے۔ نوٹس جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ متعلقہ ووٹر کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا جائے گا۔
کمیشن کے مطابق جن ووٹرز کا نام یا تفصیلات پچھلی ایس آئی آر فہرست سے میل نہیں کھاتی ہیں، انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ 12 دستاویزات میں سے کوئی ایک پیش کرنا ہوگا۔ وہیں، 'منطقی عدم مطابقت' کے زمرے میں آنے والے ووٹرز کو اپنی موجودہ معلومات کی تصدیق کرانی ہوگی۔ اس عمل کا مقصد ووٹر لسٹ میں درج تفصیلات کی تصدیق کرنا اور اہل ووٹرز کے نام یقینی بنانا ہے۔
کمیشن کے شیڈول کے مطابق ان معاملات کی تصدیق 29 اکتوبر تک مکمل کی جانی ہے۔ اس کے بعد چار نومبر کو دہلی کی حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ ایس آئی آر عمل کے دوران نوٹس پانے والے ووٹرز کے دستاویزات اور تفصیلات کی جانچ متعلقہ انتخابی حکام کے ذریعہ کی جائے گی۔
