Masarrat
Masarrat Urdu

ماسکو پر یوکرین کا اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ، دو افراد ہلاک

  • 20 Sep 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ماسکو، 20 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) یوکرین نے اتوار کو روسی دارالحکومت ماسکو پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق یہ حملہ پارلیمانی انتخابات کے آخری روز انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی ناکام کوشش تھی۔ صدر ولادیمیر پوتن نے ان انتخابات کو یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے لیے عوامی حمایت کا امتحان قرار دیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق ماسکو کے اطراف کے علاقے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دارالحکومت کی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ ریفائنری اس سے قبل بھی حملوں کا سامنا کرچکی ہے۔ عینی شاہدین نے ماسکو میں دھماکوں کی آوازیں سننے اور ریفائنری کے مقام سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تنصیب کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا، ’’دشمن کے ڈرونز کا سب سے بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ کل سے اب تک تمام محاذوں پر 1600 سے زیادہ ڈرون مار گرائے گئے ہیں، جن میں 450 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ایک ڈرون رہائشی عمارت سے ٹکرایا، تاہم عمارت میں رہنے والوں میں سے کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ سوبیانین نے کہا، ’’یہ بڑا حملہ واضح طور پر انتخابات میں خلل ڈالنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ دشمن اس میں کامیاب نہیں ہوا۔‘‘ روسی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، اسٹیٹ ڈوما کے انتخابات روس کی جانب سے فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف مکمل جنگ شروع کیے جانے کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ توقع ہے کہ حکمراں یونائیٹڈ رشیا پارٹی اپنی سیاسی بالادستی برقرار رکھے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ روس کے موجودہ سیاسی نظام میں اختلاف رائے کے لیے گنجائش نہیں ہے۔ کریملن ممکنہ طور پر انتخابی نتائج کو صدر ولادیمیر پوتن کی پالیسیوں اور یوکرین میں جنگ کے لیے عوامی حمایت کے ثبوت کے طور پر پیش کرے گا۔ یہ جنگ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کا سب سے ہلاکت خیز تنازع ہے اور اب پانچویں سال میں داخل ہوچکا ہے، تاہم اس کے جلد ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ جنگ مخالف بیشتر امیدواروں کو انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا تھا۔ لبرل یابلُوکو پارٹی کے وہ امیدوار جو انتخابات میں حصہ لے رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی آزادی کے حوالے سے خدشات ہیں۔ انتخابات سے قبل عدالتوں نے پارٹی کے دو سینئر رہنماؤں کو تنازع سے متعلق ایسے بیانات دینے پر طویل قید کی سزائیں سنائی تھیں جنہیں حکام نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔

 

Ads