حکومت ِ ایران نے، امریکی بحری محاصرے اور واشنگٹن کی نئی پابندیوں کے تحت مزید بگڑ نے والی معیشت کہ جن کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے، کے باوجود عوام کو ایک جگہ جمع کرنے اور قومی یکجہتی پر زور دینے کی کوشش کی ہے۔
محدود فوجی تربیت لینے اور "جان فدائے ایران"کے نام سے جانی جانے والی ایک مہم کے تحت ملک کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہونے والے رضا کاروں کی تعداد کا قطعی تعین نہیں ہو سکا۔
رضاکار وسطی تہران سے جنگی وردیوں میں مارچ کرتے ہوئے اور پرچم اٹھائے نظر آئے، جبکہ تماشائیوں نے تالیوں اور نعرہ بازی سے ان کے حوصلے بلند کیے ۔
سرکاری میڈیا کئی دنوں سے ایرانیوں کو اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہا تھا اور اعلان کیا تھا کہ رائفل چلانے کی تربیت جلد شروع ہو گی۔ یہ رضاکار پاسدارانِ انقلاب اسلامی اور اس کی رضاکارانہ بسیج فورس کے ساتھ مل کر ملکی تحفظ کے ایک اضافی یونٹ کو تشکیل دیں گے۔
تہران کے آئی آر جی سی کے سربراہ جنرل حسن حسن زادہ نے سرکاری ٹیلی ویژن سے کہا کہ شرکت کے لیے چھے لاکھ سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے اور توقع ہے کہ ایک ملین سے زائد لوگ تربیت حاصل کریں گے۔ جمعہ کی صبح سرکاری ٹی وی نے اندازہ لگایا کہ تین لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر ہیں۔
بسیج کے نئے سربراہ حسین طائب نے کہا کہ یہ رضاکار 'مکمل دفاع' کے لیے تیار ہوں گے اور مشابہ اجتماعات عنقریب دوسرے شہروں میں بھی منعقد کیے جائیں گے۔
طائب نے کہا کہ تربیت یافتہ افراد ایران کے دشمنوں کے لیے ایک "ڈراونا خواب بن جائیں گے" جب کہ صدر مسعود پزشکیان، فوجی کمانڈرز اور دیگر سینیئر حکام نے اس مارچ پاسٹ کا معائنہ کیا۔
کچھ شرکاء نے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو زمین تلے مسلا، جبکہ دیگر نے" امریکہ مردہ باد" اور "اسرائیل مردہ باد"کے نعرے لگائے۔
اپنے شوہر اور ننھے بچے کے ساتھ مظاہرے میں شریک 24 سالہ مرزیہ آفاقی نے کہا کہ"میں یہاں ٹرمپ کو بتانے آئی ہوں کہ ہم ایرانی اپنی دھرتی کے خلاف ان کے دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔
تاریخ میں کسی نے ایران پر حملہ کر کے وہاں مستقل قیام نہیں کیا۔یہ ریلی ایران کو فوجی سازوسامان کی نمائش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی رہی۔ ہوائی فائرنگ بیٹریاں نمائش کے لیے رکھی گئیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے وومن ونگ کی اراکین ٹرکوں پر نصب مشین گنز کے پاس بیٹھی دکھائی دیں۔
آئی آر جی سی نے ایسے ڈرونز بھی دکھائے جو آبنائے ہرمز میں جہازوں کے خلاف وسیع پیمانے پر استعمال کیے گئے ہیں اور جن کے باعث خلیجی تیل اور قدرتی گیس کی عالمی منڈیوں تک رسد شدید متاثر ہوئی۔
جمعے کے واقعات نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کی قیادت کے اندر سخت رویّہ رکھنے والے عناصر مستقبل میں حکومت کے خلاف مظاہروں کو دبانے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکتے ہیں۔
جنوری میں، جنگ سے کچھ وقت قبل، ایران نے اپنی تاریخ کے کچھ بڑے ملک گیر مظاہروں کا مشاہدہ کیا۔ یہ مظاہرے ابتدا میں کمزور معیشت کے خلاف شروع ہوئے لیکن بعد میں وسیع تر شکایات کا دائرہ اختیار کر گئے۔
کارکنوں نے کہا کہ بعد کے کریک ڈاؤن میں سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ لاکھوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔
حکومتی عہدیداروں نے مئی میں کہا تھا کہ ایران کی کل آبادی جسے تقریباً 90 ملین مانا جاتا ہے، اس میں سے 30 ملین سے زائد افراد نے آن لائن فارم یا عوامی اجتماعات کے ذریعے اس مہم میں رضاکارانہ شمولیت کی درخواست دی تھی۔ اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔
