ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (آئی آرجی سی) نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
آئی آر جی سی نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا، "سپر ٹینکر 'ایل گئیا' جنوبی آبنائے ہرمز کے ایک ممنوعہ علاقے سے گزرنے والا تھا کہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دھماکے کا شکار ہو گیا۔ آگ بجھانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔"
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے آئی آر جی سی کے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ماہ ایران کی جانب سے داغی گئی ایک میزائل سے ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا تھا جس سے وہ ناکارہ ہو گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ہفتے کے اختتام پر، جب جہاز عمان کے ساحل کے قریب تھا، تو ایران نے مبینہ طور پر ڈرون سے اس پر دوبارہ حملہ کیا۔
سینٹ کام نے 'ایکس' پر لکھا، "فی الحال ایک علاقائی اتحادی ملک ٹینکر کو کھینچ کرلے جا رہا ہے۔"
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں قائم ٹھکانوں پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی حملے کیے گئے۔ جون کے وسط میں ایران اور امریکہ نے تنازع ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم بعد میں ان کے درمیان دوبارہ حملے شروع ہو گئے۔ فی الحال یہ تنازع حل نہیں ہوا ہے۔
تنازع میں شدت آنے کی وجہ سے آبنائےہرمز کے ذریعے ہونے والی بحری جہازوں کی نقل و حرکت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ راستہ تیل، پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی عالمی منڈی کے لیے ایک انتہائی اہم سپلائی روٹ ہے۔ نتیجے کے طور پر، دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
