جاری ریلیز کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں بظاہر ہاسٹل کا ایک مکیں اپنی دال کی پیالی میس کی میز کے نیچے لے جاتے ہوئے دکھائی دیتا ہے، جس کے بعد مبینہ طور پر طلبہ کے ایک گروپ نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور الزام لگایا کہ پیالی میں گرگٹ پایا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کمیٹی کے ذریعے سی سی ٹی وی فوٹیج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، جس میں واقعے سے قبل کے حالات اور اس میں ملوث افراد کے اقدامات اور کردار شامل ہیں۔
اس چار رکنی کمیٹی کو حقائق کا پتہ لگانے اور یہ تعین کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ آیا یہ واقعہ خلل پیدا کرنے یا یونیورسٹی کے ہاسٹل میس کو بدنام کرنے کی کسی دانستہ کوشش کا حصہ تھا۔ جامعہ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر کسی دانستہ غلط حرکت، من گھڑت کاروائی، غلط معلومات کی فراہمی یا دیگر بدعنوانی کا ثبوت ملتا ہے، تو اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق مناسب کاروائی کی جائے گی۔
جامعہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس کے ہاسٹل میسز کئی دہائیوں سے طلبہ کی خدمت کر رہے ہیں اور کھانے کے معیار اور حفظان صحت کی معمول کے مطابق ہاسٹل انتظامیہ کی طرف سے نگرانی کی جاتی ہے جس میں اس کے پرووسٹ، وارڈنز، کیئر ٹیکر کے علاوہ ہاسٹل کے مکینوں پر مشتمل میس کمیٹیاں بھی شامل ہیں۔ یہ بات مزید قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی کے حکام بشمول شیخ الجامعہ اور رجسٹرار کبھی کبھار بوائز اور گرلز ہاسٹل میس میں دوپہر اور رات کا کھانا کھاتے ہیں تاکہ ہاسٹل کے مکینوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار پر نظر رکھی جا سکے۔ یونیورسٹی نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس کے میس میں کھانے کے چارجیز دہلی کی قومی راجدھانی کی دیگر یونیورسٹیوں کے مقابلے میں سب سے کم ہیں، جب کہ کھانے کے معیار اور حفظان صحت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جاتی ہیں۔
شفافیت اور مسلسل نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے، یونیورسٹی نے اپنے تمام ہاسٹل میس کے ساتھ ساتھ ان کے متعلقہ مطبخ میں اضافی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نگرانی کا ہمہ وقت نظام مطبخ اور میس کے علاقوں میں کھانے کی تیاری، کیٹرنگ اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کی نگرانی کے قابل بنائے گا۔
جامعہ انتظامیہ نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے ہاسٹلوں کے معمول کے کام کاج اور بڑے تعلیمی ماحول کو بے بنیاد الزامات، غلط معلومات یا خلل ڈالنے والی سرگرمیوں بشمول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریلوں اور ویڈیوز کی گردش کو بدنام کرنے کی کوششوں کے طور پر دیکھتی ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی شخص جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلاتا ہے یا ٹھوس حقائق اور تصدیقی شواہد کے بغیر الزامات لگاتا ہے تو موجودہ قوانین کے تحت کاروائی کا ذمہ دار ہے۔
جامعہ طلبہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ مواد کوپھیلانے سے گریز کریں، بشمول سوشل میڈیا مواد/ویڈیوز اور کلپس جو جان بوجھ کر ایک سو پانچ سال سے زیادہ قدیم ادارے کی ساکھ کو داغدار کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو یقین دلایا ہے کہ کھانے کے معیار، حفظان صحت یا ہاسٹل کی سہولیات سے متعلق حقیقی خدشات کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ طلبہ اور رہائشیوں کے لیے ایک محفوظ، قابل اور معاون ماحول کو برقرار رکھنا اس کا بنیادی مقصد ہے اور یہ کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس کے ہاسٹلز اور میسز میں بہترین طریقوں اور اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھا جائے نیز طلبہ کے تعلیمی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
