نشریاتی ادارے نے 3 ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے خلیج فارس کے ممالک کو نجی طور پر بتایا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے آئندہ مذاکرات کو آبنائے ہرمز کھولنے کے بجائے تہران کے جوہری پروگرام پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے جوابی حملے کیے گئے۔ جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے دشمنی ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے، تاہم اس کے بعد دونوں جانب سے دوبارہ حملے کیے گئے۔ فی الحال یہ تنازع حل نہیں ہوا ہے۔
تنازع میں شدت کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔ یہ عالمی منڈی کے لیے تیل، پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
