دو روزہ اس اجلاس میں حصہ لینے والے تمام رہنماؤں کا ہوائی اڈے پر گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم نریندر مودی کریں گے۔ اجلاس کا موضوع " مضبوط ، اختراع ، تعاون اور پائیدار ترقی کا قیام " ہے۔ ہندوستان چوتھی بار برکس کی صدارت کر رہا ہے اور یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سال یہ گروپ اپنے قیام کے 20 سال بھی مکمل کر رہا ہے۔ اجلاس میں برکس کے 11 رکن ممالک برازیل، روس، ہندوستان، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کے اعلیٰ رہنما نیز سربراہانِ مملکت شامل ہو رہے ہیں۔
یہ مسعود پزشکیان کا پہلا دورۂ ہندوستان ہے اور شام کو ان کا وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کا پروگرام ہے۔ مغربی ایشیا کے بحران کے مدنظر اس بات چیت کو اہم مانا جا رہا ہے۔
ہندوستان اور برازیل کے درمیان طویل عرصے سے دوستی اور گلوبل ساؤتھ میں تعاون بڑھانے کا عزم ہے جبکہ ہندوستان اور روس کے تعلقات خاص اور استحقاق یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں۔ ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان بھی اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی پرانے اور مضبوط تعلقات ہیں۔
یوراگوئے کے وزیرِ خارجہ ماریو لوبیتکن سربراہ اجلاس میں لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک کی کمیونٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہندوستان اور یہ کمیونٹی تجارت، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور گلوبل ساؤتھ میں شراکت داری مضبوط کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
ہندوستان اور یوگانڈا کے درمیان مشترکہ تاریخ اور بڑھتی ہوئی شراکت داری پر مبنی دوستانہ تعلقات ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گترش کا دورہ برکس ممالک کی کثیر جہتی اور امن، ترقی نیز بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تعمیری بات چیت کے مشترکہ عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ اے آئی آئی بی کے صدر زو جیائی کے دورے سے پائیدار ترقی اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے مواقع بڑھانے والی شراکت داری مضبوط ہوگی۔
