نئی دہلی، 9 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام) نیپال کا معروف ادارہ مدرسہ قاسمیہ گھسکی سنسری نیپال کے بانی ناظم مولانا عبدالودود قاسمی کو دلی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے القرآن اکیڈمی دہلی کے صدر اور مدرسے تحفیظ القرآن بابوآن بسمتیہ کے بانی مولانا اکرام الحق قاسمی نے کہا کہ ان کے انتقال نہ صرف نیپال بلکہ سرحدی علاقے میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جس کی تلافی مشکل نظر آرہی ہے۔یہ بات انہوں نے سیمانچل سرکل آف دہلی (ایس سی ڈی) کے زیر اہتمام مولانا عبد الودود قاسمی مرحوم کی یاد میں ایک آن لائن-آف لائن تعزیتی نشست کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مولانا مرحوم کے کے ساتھ اپنا ذاتی اور ادارتی تعلق کا اظہار کیا اور کہا کہ مولانا بڑے مہمان نواز، علم دوست اور اخلاص وللہیت کے پیکر تھے۔ مدرسہ تحفیظ القرآن کے قیام کے تعلق سے مرحوم سے جب مشورہ کیا گیا تو انھوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کامیابی کی دعائیں دیں۔انہوں نے مرحوم کی شخصیت اور ان کے خدمات پر مستقبل قریب میں ایک بڑا جلسہ کرانے کی پیشکش بھی کی۔
سیمانچل سرکل کے صدر اور اس نشست کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے سینئر صحافی عابد انور نے بتایا کہ مولانا مرحوم دار العلوم دیوبند میں ان سے جونیئر تھے۔ ذہین اور سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے۔ مرحوم کی دعوت پر موصوف نے ان کا ادارہ، مدرسہ قاسمیہ کا چند سال قبل دورہ کیاتھا اور ادارے میں دو دن قیام کرکے طلبہ و طالبات سے براہ راست بات چیت، ان کی رہنمائی اور ادارہ کو لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے دینی عصری تعلیم کا سنگم پایا۔انہوں نے کہا کہ عبدالودود قاسمی کا خیال تھا کہ مدارس میں مالدار گھرانوں کے بچوں کو بھی تعلیم حاصل کرنا چاہئے تاکہ وہ موثر طریقے سے سماج کی رہنمائی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دینی ادارے حکومت کے نشانے پر ہے، لہذا ان کی حفاظت ہر مسلمان کی ملی ذمہ داری ہے۔ آج اردو اگر زندہ ہے تو انہیں مدارس کی وجہ سے ہے۔
آن لائن گفتگو کی شروعات کرتے ہوۓ راجستھان سے مولانا عارف حسین قاسمی استاذ حدیث مدرسہ لطیفیہ سردار شہر نے عبد الودود مرحوم کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کا اظہار کیا اور کہا کہ مولانا ایک علم دوست اور نیک طینت انسان تھے۔ انھوں نے بڑی تگ و دو کے ساتھ مدرسہ قاسمیہ قائم کیا اور اپنی پوری زندگی اس کی تعمیر و ترقی میں لگادی۔
مولانا سہیل ندوی نے مرحوم کی سماجی اور علمی زندگی کا احاطہ کرتے ہوۓ بتایا کہ مولانا مرحوم انتہائی ملنسار اور تواضع و انکساری کے پیکر تھے۔ مدرسہ قاسمیہ کی اچھی تعلیمی منصوبہ بندی کرتے اور علمی شخصیات سے ہمیشہ راۓ مشورہ کرتے اور کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی فکر میں لگے رہتے۔ اپنے مدرسے میں حفظ کے بعد قلیل-مدتی نصاب کی تیاری اور اس کی تکمیل، ان کا منصوبہ تھا تاکہ حافظ بچے بھی وقت رہتے مولوی و عالم و فاضل بن سکیں یا ہائی اسکول و انٹر کرسکیں۔
مدرسہ قاسمیہ کے موجودہ مہتمم حافظ ابرار عالم قاسمی نے مرحوم کی خوبیوں کا احاطہ کرتے ہوۓ کہا کہ وہ ایک متحمل مزاج اور صابر و شاکر انسان تھے۔ مدرسہ قاسمیہ کے انتظام و انصرام کو انتہائی حکمت و بردباری سے انجام دیتے۔ ان کی اچانک رحلت سے ایک بڑا انتظامی و تربیتی خلا واقع ہوگیا ہے جس کو ٹریک پر لانا ہمارے لیے اس وقت بہت بڑا چیلینج ہے۔
مولانا مرحوم کے کاموں کو سراہتے ہوۓ، سیمانچل سرکل کے سرپرست اور دہلی میں طویل عرصے سے تدریس قرآن سے وابستہ حافظ مولانا نثار عالم ندوی نے کہا کہ مولانا مرحوم نے تعلیمی و معاشرتی لحاظ سے انتہائی پسماندہ، گھسکی جیسی جگہ پر نہ صرف ایک بڑا ادارہ قائم کیا بلکہ اس کام کو بہترین منصوبہ بندی اور خوبصورتی سے انجام دیا۔

نیپالی زبان میں پہلی بار ترجمہ قرآن کرنے کا شرف حاصل کرنے والے ڈاکٹر علاؤالدین فلاحی نے مرحوم کے ساتھ اپنی قربت کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ مرحوم ان کے مکتب کے کلاس-ساتھی اور پڑوسی تھے۔ اعلی تعلیم کے لیے دونوں میں سے ایک دار العلوم دیوبند تو دوسرے جامعۃ الفلاح چلے گئے۔ عبد الودود مرحوم نے مدرسہ قاسمیہ کی تاسیس رکھی تو خاکسار نے ہلال پبلک اسکول کی بنیاد رکھی۔ آج ان دونوں اداروں کی وجہ سے گھسکی علم و ادب کا گہوارہ بنی ہوئی ہے۔
مولانا مرحوم کے بڑے صاحبزادے برادر راشد نے مرحوم کی رحلت سے قبل چند گھنٹے کے واقعات بتاۓ۔ آخری وقت میں بھی مرحوم کی زبان پر دعاؤں و کلموں کا ورد تھا اور پورے اطمینان و رضا کی کیفیت سے لبریز اس دنیا سے رخصت ہوگۓ۔
مفتی وارث قاسمی نے کہا کہ گھسکی اور پورے نیپال میں تحریک دار العلوم دیوبند کو زندہ و تابندہ رکھنے میں مولانا مرحوم کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
علیگڑھ سے اپنے تحریری تعزیت نامے میں ڈاکٹر نظام الدین فلاحی نے لکھا کہ بڑے لوگوں کی خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور مقام کی ضرورت کو پورا کر رہے ہوتے ہیں، مولانا عبد الودود قاسمی وقت کی ضرورت کے لحاظ سے تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت کو سمجھ رہے تھے اور اس لیے بچوں کو بورڈ کے امتحانات بھی دلاتے تھے۔ تعلیم نسواں پر بھی ان کا زور تھا۔
خواتین کی نمائندگی کرتے ہوۓ جمیلہ مریم فلاحی نے مرحوم کے دینی و ملی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کے لیے اسے بڑا صدقۂ جاریہ بتایا۔
پروگرام کے کنوینر اور سیمانچل سرکل آف دہلی (ایس سی ڈی) کے سیکریٹری ڈاکٹر مہربان علی فلاحی نے تمہیدی گفتگو کرتے ہوۓ شرکاء کا استقبال کیا، نشست کی غایت بتائی اور کہا کہ مولانا عبد الودود کی رحلت ایک بڑا ملی خسارہ ہے، ان کی دینی و علمی خدمات کا اعتراف و احاطہ اور ان کی وراثت کو بہتر طور پر قائم و دائم رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صوبہ بہار کے کوسی و سیمانچل اور ہند و نیپال کے سرحدی علاقے سے دہلی آنے والے عام لوگ, طلبہ و مسافرین کی مدد کرنا اور وہاں کے دینی، ملی اداروں کو فعال بنانے کے لیے ممکنہ تعاون فراہم کرنا اور سماج کے سرکردہ افراد کے خدمات کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر اعتراف کرانا، سیمانچل سرکل آف دہلی کے بنیادی اغراض و مقاصد میں سے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کی ہماری یہ آف لائن- آن لائن نشست اسی سلسلے کی کی ایک کڑی ہے۔
برادر حافظ ساجد کے تلاوت قرآن سے نشست کا آغاز ہوا، سرکل کے نائب صدر ڈاکٹر شمیم نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔
اس کے علاوہ دہلی و ملک و بیرون سے تقریبا ساٹھ سے زائد علمی، تحریکی اور مختلف تعلیمی اداروں سے جڑے افراد نشست کا حصہ رہے۔ ڈاکٹر محیی الدین فلاحی، انجینئر دانش، عمران لطیفی، مفتی کلام، دانش عابد، جمال الدین ندوی، ظفر کمال اور شمشیر وغیرہ شرکاء قابل ذکر ہیں۔واضح رہے کہ یکم ستمبر بروز منگل مشہور تعلیمی ادارہ مدرسہ قاسمیہ کے بانی مولانا عبد الودود قاسمی کا اچانک انتقال ہوگیا تھا۔
