کانگریس کے ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں (آر یو پی پی) کے ذریعے کروڑوں روپے کا چندہ دکھا کر، ٹیکس میں چھوٹ کا فائدہ اٹھایا گیا اور دو سے 15 فیصد تک کمیشن کاٹ کر بقایا رقم واپس انہی کروڑ پتیوں کو پہنچائی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انکم ٹیکس محکمہ اور ٹیکس ٹریبیونل کی جانب سے مبینہ دھاندلی پکڑے جانے کے باوجود متعلقہ افراد کے خلاف نہ تو تعزیری کارروائی کی گئی اور نہ ہی فوجداری مقدمہ چلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت ایسے معاملات میں مقدمہ چلانے اور سات سال تک کی سزا کا اہتمام ہے۔
گوہل نے الیکشن کمیشن کے رول پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے اور ان کے اخراجات کی پوری تفصیلات عام کرنا نیز اس کی اطلاع انکم ٹیکس محکمہ کو بھیجنا کمیشن کی ذمہ داری تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ دھاندلی میں ملوث کچھ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کیے جانے کے باوجود حکومت نے ان پر کی جانے والی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔
کانگریس نے اس پورے معاملے کی جانچ کے لیے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فرضی عطیہ دہندگان پر قانونی جرمانہ عائد کر کے فوجداری مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ پارٹی نے فرضی سیاسی جماعتوں کے کارندوں نیز گھپلے میں ملوث چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے خلاف بھی فوجداری مقدمات درج کرنے اور عطیہ دہندگان نیز متعلقہ کمپنیوں کی پوری تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ کیا۔
