ازبکستان کے دو روزہ دورے پر گئے مسٹر مودی نے اتوار کے روز دارالحکومت تاشقند میں صدر شوکت مرزیایوف کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس بیان میں یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ازبکستان کا ان کا چوتھا دورہ ہے جو تعلقات کی قربت، قریبی ہم آہنگی اور گہری دوستی کو ظاہر کرتا ہے۔
صدر مرزیایوف کے ساتھ گزشتہ دہائی میں ہوئی متعدد ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ان کی مثبت اور دور اندیش سوچ، اور مسلسل سیکھتے رہنے کا جذبہ واقعی بہت متاثر کن ہے۔ ہندستان کے لیے ان کی گہری دوستی اور اٹوٹ عزم کے لیے میں ان کا پرخلوص خیر مقدم کرتا ہوں۔"
مسٹر مودی نے کہا کہ جہاں ازبکستان وسطی ایشیا کے مرکز میں ہے، وہیں ہندستان کے لیے بھی وہ اس خطے کا بنیادی نقطہ ہے۔ ہندستان اور ازبکستان کی سوچ اور امنگوں میں گہری مماثلت ہے۔ "ینگی ازبکستان" اور "وکست بھارت 2047"، دونوں کے مرکز میں نوجوان، جدت طرازی، شمولیت پر مبنی ترقی اور جدید ترین ٹیکنالوجی ہے۔ اس مشترکہ وژن پر چلتے ہوئے ہم دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کے 15 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس خاص موقع پر ہم نے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "آج ہم نے اپنی شراکت داری کے اس نئے روپ میں تیز رفتار اور ٹھوس نتائج کے ساتھ آگے بڑھنے کا ایک پرعزم ایجنڈا تیار کیا ہے۔ ہماری دو طرفہ تجارت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اب ہم نے 2030 تک پانچ ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف رکھا ہے۔ اس کے لیے ہم مارکیٹ تک رسائی، رابطہ کاری، بینکنگ اور ادائیگیوں سے متعلق موضوعات پر منظم انداز میں آگے بڑھیں گے۔"
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، اے آئی، اہم معدنیات، صاف توانائی، خلا اور ایٹمی توانائی میں تعاون سے ہمارے تعلقات کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک زراعت اور صحت کے شعبے میں ایک دوسرے کی غذائی سلامتی میں اپنا تعاون دیں گے۔ طبی جڑی بوٹیوں اور آیروید کے شعبے میں ہوئے معاہدے سے ہماری مشترکہ کوششوں کو طاقت ملے گی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ یہ شراکت داری صرف دو دارالحکومتوں تک محدود نہ رہے۔ اس لیے ہم اپنے شہروں اور ریاستوں کے درمیان بھی شراکت داری کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی دفاعی اور سکیورٹی تعاون گہرے باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے وقت میں ہم دونوں ملکوں کی دفاعی صنعتوں کے درمیان براہِ راست رابطے، مشترکہ پیداوار اور مشترکہ ترقی کو فروغ دیں گے۔
وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی پورے خطے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ ان کے خلاف 'زیرو ٹالرنس' ہمارا مشترکہ عزم رہا ہے اور آگے بھی رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی سب سے گہری جڑیں ہماری مشترکہ میراث میں ہیں اور آج انہیں مزید مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "ازبکستان کے بدھ کی میراث کے مقامات کے تحفظ کے لیے ہم مل کر کام کریں گے۔ دونوں ملکوں کے نوجوانوں، بالخصوص طلباء اور پیشہ ور افراد کے درمیان تبادلوں کو فروغ دینا ہماری اعلیٰ ترجیح ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت کو بڑھانے کے لیے آج تعاون پر رضامندی ظاہر ہوئی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ازبکستان میں ہندی زبان کو فروغ دینے کے لیے آج ہم اسکالرشپ کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔"
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی بات چیت نے ہمارے تعلقات کے مستقبل کی ایک واضح سمت طے کی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہند-ازبکستان کے درمیان مضبوط شراکت داری سے وسطی ایشیا میں امن، پیش رفت اور خوشحالی کو طاقت ملے گی۔"
وزیر اعظم نے دو دن بعد ازبکستان کی آزادی کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر ہندستان کی طرف سے مبارکباد اور نیک خواہشات بھی پیش کیں۔
