مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ مسٹر کھرگے کے تئیں ایسی دلت مخالف نفرت دکھانے والوں کو اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سرفراز یا انعام سے نواز سکتی ہے۔ ایسے واقعات کو انجام دینے کی ہمت تبھی آتی ہے، جب انہیں اوپر سے تعاون یا سرپرستی حاصل ہو۔
انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں ایسے واقعات کا بار بار اعادہ کیوں ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی-آر ایس ایس کے نظریے کی بنیاد میں دلتوں کے تئیں نفرت ہے اور وہ چاہے کتنا بھی نقاب اوڑھ لیں، ان کی سوچ بار بار سامنے آ جاتی ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین نے محروم اور دلت طبقے کو سیاسی طاقت دی، جس کی وجہ سے اس طبقے سے آنے والا شخص ملک کی سیاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچ سکا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسٹر کھرگے کی عزت ووقار پر ہوئے حملے کے خلاف ان سے ایک لفظ بولنے کی امید کرنا بھی بیکار ہے۔
