روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم بارہا یہ انتباہ دے چکے ہیں کہ روسی سرزمیں پر حملوں کے لیے برطانوی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں یوکرین اور یوکرین سے باہر موجود تمام برطانوی فوجی تنصیبات اور آلات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
زاخارووا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹورم شیڈوکروز میزائل کیف کے حوالے کرنے کو جاری یوکرین جنگ میں برطانیہ کی براہِ راست شمولیت کا سب سے واضح ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں یوکرین کو پہلی بار اسٹورم شیڈو میزائل دیے جانے کے بعد سے برطانیہ ان کے استعمال سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے گریز کرتا رہا ہے لیکن ایک خاص وقت کے بعد یہ بالکل واضح ہو گیا کہ ان کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
زاخارووا نے یاد دلایا کہ مئی 2024 میں برطانیہ کے اس وقت کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ یوکرین خود فیصلہ کرے گا کہ برطانوی ہتھیار کیسے اور کہاں استعمال کرنے ہیں۔ مزید برآں، زاخارووا نے کہا کہ ماسکو نے برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کے اس بیان پر توجہ دی ہے کہ جس میں کہا گیا تھا کہ اسٹورم شیڈو کے فرانسیسی ورژن اسکیلپ میزائل میں استعمال ہونے والے برطانوی ساختہ پرزوں کے خفیہ ڈیزائن پلان کیف کو دیے جائیں گے تاکہ یوکرین ان حصوں کو اپنی سرزمین پر تیار کر سکے۔
زاخارووا نے برطانوی حکومت پر روس کو اسٹریٹجک شکست دینے کی کوششیں جاری رکھنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ یہ کوشش ناکام ہونے کے لیے ہی بنی ہے۔ زاخارووا نے برطانیہ میں رہنے والے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی انتظامیہ کے معاندانہ اقدامات کے ناگزیر اور تباہ کن نتائج پر غور کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم برطانوی قیادت پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ صورتحال کا ایک بار پھر گہرائی سے جائزہ لے اور روس کے خلاف اپنے جارحانہ رویے کو فوری طور پر انتہائی فیصلہ کن اور واضح انداز میں ترک کر دے۔
