مسٹر کھرگے نے کہا کہ کھلے سوالات کے ذریعے ذاتوں کی صحیح گنتی ممکن نہیں ہے۔ ایک ہی ذات کے مختلف ناموں اور ذیلی ذاتوں کے طور پر درج ہونے سے اعداد و شمار بکھر سکتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، انتہائی پسماندہ اور محروم طبقات کو ہوگا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کا مطالبہ واضح ہے کہ موجودہ سوالنامے کو منسوخ کر کے تصدیق شدہ ذاتوں کی فہرست کی بنیاد پر نیا سوالنامہ تیار کیا جائے۔ اس کے لیے سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عام لوگوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور بہار میں کیے گئے ذات پر مبنی سروے کی طرز پر پہلے سے تیار اور تصدیق شدہ ذاتوں کی فہرست کی بنیاد پر گنتی کرنا اس کا عملی حل ہو سکتا ہے۔ مسٹر کھرگے نے زور دے کر کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری صرف کرائی ہی نہیں جانی چاہیے، بلکہ اس کے اعداد و شمار درست اور قابلِ اعتماد بھی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی درست اعداد و شمار سماجی انصاف اور محروم طبقات کے حقوق سے متعلق پالیسی ساز فیصلوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
