کبیر نے کہا کہ ڈھاکہ واضح قومی مفادات کے تعین کے بغیر کسی اعلیٰ سطحی دورے کے انعقاد میں جلد بازی نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 12 اور 13 ستمبر کو ہندوستان میں ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس میں طارق رحمان کی ممکنہ شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی فوری حوالگی کے مطالبے پر ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔
کبیر نے سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’آئندہ برکس سربراہ کانفرنس سے قبل وزیر اعظم کے ہندوستان کا دورہ کرنے کا امکان اس وقت تک کم ہے جب تک مخصوص معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے اور ایک باعزت دعوت کی بنیاد پر موزوں ماحول پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ کو پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نئی دہلی دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والی بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے۔
کبیر کے مطابق، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا مستقبل اور وزیر اعظم کا اعلیٰ سطحی دورہ ہند کی موجودہ قیادت کی سوچ یا طرزِ عمل میں تبدیلی پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی قیادت کو 2024 کی جولائی تحریک کی ’’حقیقت‘‘ اور اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے سیاسی نظریے میں آنے والی بنیادی تبدیلیوں کو سمجھنا ہوگا۔
یہ بیان ہندوستانی ہائی کمشنر دینیش ترویدی کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی دونوں رہنماؤں کی ملاقات چاہتے ہیں اور مجوزہ دورے کے دوران طارق رحمان کو ’’باعزت استقبال‘‘ کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ترویدی نے بنگلہ دیشی کاروباری رہنماؤں اور ہندوستان کی صنعتوں کی نمائندہ تنظیم کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے دورہ کرنے والے وفد کے اعزاز میں ہندوستانی ہائی کمیشن کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ’’وزیر اعظم مودی نے صرف ایک بات کہی ہے: ہمیں ملاقات کرنی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا تھا کہ مودی چاہتے ہیں کہ طارق رحمان کا دورہ ’’یادگار‘‘ ہو۔
شیخ حسینہ کی ہندوستان میں موجودگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سابق وزیر اعظم اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد 5 اگست 2024 کو ہندوستان فرار ہوگئی تھیں اور اس کے بعد سے نئی دہلی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
کبیر نے نئی دہلی کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے حسینہ کو ہندوستانی سرزمین سے سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا سے گفتگو کی اجازت دی، جس سے بنگلہ دیش میں غم و غصہ پیدا ہوا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جن افراد کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہو یا جنہیں سزا سنائی جاچکی ہو، انہیں سیاسی یا میڈیا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہندوستان کے ’’جمہوری آداب‘‘ کے منافی ہے۔ تاہم، ہندوستانی وزارت خارجہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ نئی دہلی میں 5 اگست کو سابق وزیر اعظم کی آن لائن پریس گفتگو یا ان کے بیانات میں ہندوستانی حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔
کبیر نے کہا کہ ڈھاکہ پہلے ہی نئی دہلی کے سامنے سفارتی احتجاج درج کرا چکا ہے اور بنگلہ دیش اپنے بقول ہندوستان کی سرزمین سے ہونے والی ’’بنگلہ دیش مخالف سرگرمیوں‘‘ کو روکنے کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال جاری رکھے گا۔
شیخ حسینہ کو نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے جولائی اور اگست 2024 میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اس کے بعد ڈھاکہ نے ہندوستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اس درخواست کا جائزہ قابلِ اطلاق قوانین اور طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے تحت لیا جا رہا ہے۔
