ہندوستان4 اگست کو پہلے ٹیسٹ سے 10 دن قبل سری لنکا پہنچا تھا اور تیاری کے طور پر تین روزہ وارم اپ میچ بھی کھیلا تھا۔ سُتھار نے بی سی سی آئی ٹی وی سے کہا کہ جلد پہنچنے سے ماحول اور پچ کے مطابق ڈھلنے کا کافی وقت ملا اور اس تیاری کا ٹیم کو بھرپور فائدہ ہوا۔
افغانستان کے خلاف جون میں ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد سُتھار نے کُوکابورا گیند سے بھی خاصی مشق کی۔ انہوں نے کہا کہ گھر پر نیٹس میں اس گیند سے مسلسل پریکٹس کی تاکہ میچ کے ماحول کے لیے پوری طرح تیار ہوسکیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انگلینڈ کی کاؤنٹی ٹیم وارکشائر کے لیے دو ریڈ بال میچ بھی کھیلے، جس سے انہیں مزید تجربہ حاصل ہوا۔
گال ٹیسٹ میں سُتھار نے مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کیں، جن میں دوسری اننگز میں 55 رنز دے کر 6 وکٹیں شامل تھیں۔ انہوں نے رویندر جڈیجا اور کلدیپ یادو کے ساتھ مل کر صبر کے ساتھ گیندبازی کی۔ سُتھار نے کہا کہ اسپن گیندبازوں نے طے کیا تھا کہ ایک ہی جگہ پر مسلسل گیند کرتے ہوئے دباؤ برقرار رکھا جائے اور نتائج خود سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صبر کا یہی انداز کامیاب رہا اور سونال دینوشا کے 84 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد سری لنکا کی اننگز تیزی سے بکھر گئی۔ سُتھار نے اس کے بعد صرف 10 گیندوں میں مزید تین وکٹیں حاصل کیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں دوسری بار ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کے ساتھ میچ میں پہلی مرتبہ 10 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔
23 اگست کو کولمبو میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں بھی سُتھار کا کردار اہم ہوگا، جہاں ہندوستان کی نظریں سیریز جیتنے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے پر ہوں گی۔
