امت شاہ نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، "کانگریس ورکنگ کمیٹی نے 'وندے ماترم' کو مکمل گانے کے بجائے صرف دو بند گانے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ نہ صرف ملک مخالف ہے، بلکہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ سال 1937 میں خوشامد کے لیے کانگریس نے ہی 'وندے ماترم' کے دو ٹکڑے کیے۔ وہیں سے دو قومی نظریے کو طاقت ملی اور ملک کی تقسیم ہوئی۔ 'وندے ماترم' کے 150 ویں سال پر مودی حکومت نے یہ تاریخی غلطی سُدھاری اوراس گیت کو مکمل گانے کو قانونی شکل دی۔ لیکن راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس پھر اسی ووٹ بینک کے لیے خوشامد کے راستے پر ہے۔ 'وندے ماترم' کے ٹکڑے کرنے کی غلطی ایک بار ہو چکی اور ملک اس کے نتائج بھگت چکا ہے۔ ہم وطنوں سے یہ اپیل ہے کہ متحد ہو کر کانگریس کی اس خوشامد پسندی کے خلاف آواز بلند کریں۔"
قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے بدھ کو ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد کہا کہ وندے ماترم کے معاملے پر پارٹی اپنے پرانے موقف پر ہی قائم ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری وینوگوپال نے کہا کہ 1937 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی میں منظور کی گئی قرارداد ہی اس موضوع پر پارٹی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مہاتما گاندھی، آچاریہ نریندر دیو، جواہر لال نہرو، مولانا آزاد، گووند ولبھ پنت سمیت کانگریس کے کئی اہم رہنما موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئین ساز اسمبلی کے آخری مرحلے میں وندے ماترم کو قومی گیت اور جن گن من کو قومی ترانے کا درجہ دیا گیا تھا اور کانگریس اس نظام کے تعلق سے پوری طرح واضح ہے۔
