ایمز کے ڈاکٹر راجندر پرساد سینٹر فار آفتھلمولوجی (آر پی سی) میں قائم یہ اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے، جس کا مقصد پورے ملک میں ریٹینا کی دیکھ بھال سے جڑی کلینیکل صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ روش انڈیا ہیلتھ کیئر انسٹی ٹیوٹ (آر آئی ایچ آئی) کے ساتھ شراکت داری میں تیار کردہ یہ پلیٹ فارم، ایمز میں دستیاب کلینیکل اور تعلیمی مہارت کو صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی آر آئی ایچ آئی کی عہد بستگی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس کا مقصد ریٹینا سے جڑی بیماریوں کے لیے عملی تربیت، تحقیق اور جدت طرازی کا ایسا ماڈل تیار کرنا ہے، جسے بڑے پیمانے پر اپنایا اور آگے بڑھایا جا سکے۔
اس پروگرام کے مرکز میں جدید ترین 'ریٹینا اسکل لیب کور' (کمپری ہینسو ریٹینل ایجوکیشن) ہے، جو ہائی ریزولیوشن او سی ٹی، فنڈس کیمروں اور خصوصی مائیکرو اسکوپ جیسی جدید ٹیکنالوجیز سے لیس ہے، تاکہ موڈیول کی بنیاد پر ریٹینا سے متعلق تربیت دی جا سکے۔ نیشنل ریٹینا اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر کا ہدف اگلے تین سالوں میں پبلک ہیلتھ سسٹم سے جڑے 100 سے زائد آفتھلمولوجسٹس (ماہرینِ چشم) کو تربیت دینا ہے۔ ماہرینِ چشم کو آٹھ موڈیولز میں تیار کردہ ایک منظم تربیتی پروگرام فراہم کیا جائے گا۔ اس تربیت کو اس طرح تیار کیا گیا ہے تاکہ ڈاکٹر ریٹینا سے جڑی بیماریوں کی ابتدائی شناخت، صحیح تشخیص اور بہتر انتظامی دیکھ بھال زیادہ مؤثر طریقے سے کر سکیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر راجندر پرساد سینٹر فار آفتھلمولوجی، ایمز نئی دہلی میں آفتھلمولوجی کی سربراہ و پروفیسر محترمہ ڈاکٹر رادھیکا ٹنڈن نے کہا، "ماہرین کی کمی کو دیکھتے ہوئے ریٹینا کی دیکھ بھال سے جڑی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔ ریٹینا کی بہتر دیکھ بھال کے لیے طبی مہارت کے ساتھ ساتھ کلینیکل صلاحیتوں اور عملی مہارتوں کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔ اس کے لیے ایسے تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت ہے، جو بیماری کی ابتدائی شناخت کر سکیں، صحیح تشخیص کر سکیں اور مناسب دیکھ بھال فراہم کر سکیں۔ آر پی سینٹر، ایمز کی نیشنل ریٹینا اسکل ڈیولپمنٹ لیب میں موڈیولیٹڈ ریٹینا ٹریننگ پروگرام کے ذریعے ماہرینِ چشم کو منظم، عملی تربیت اور جدید سہولیات کا فائدہ ملے گا۔"
انہوں نے کہا کہ اس سے تربیت یافتہ ہیلتھ کیئر ورکرز کی دستیابی بڑھانے میں مدد ملے گی اور پورے ملک میں ریٹینا کی دیکھ بھال کے معیار اور یکسانیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ ہمارا مقصد اسپیشلسٹ سینٹرز سے آگے بھی تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانا اور خاص طور پر پبلک ہیلتھ سسٹم میں کام کرنے والے عام ماہرینِ چشم کو ریٹینا سے جڑی بیماریوں کی شناخت، صحیح تشخیص اور انتظام کے لیے ضروری عملی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ اس سے زمینی سطح پر ہمارے صحت کے نظام کو مضبوط کرنے اور ہندوستان میں روکی جا سکنے والی بینائی کی محرومی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ریٹینا سے متعلق عوارض ہندوستان میں مستقل طور پر بینائی کمزور ہونے یا ختم ہونے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ ان بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور اس کے ساتھ ہی ریٹینا کے ماہرین نیز ضروری طبی سہولیات کی کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ریٹینا کی دیکھ بھال کے شعبے میں ڈاکٹروں کی مہارت اور صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ملک میں ریٹینا کے ماہرین کی سب سے بڑی تنظیم 'ویٹریو-ریٹینا سوسائٹی آف انڈیا' (وی آر ایس آئی) کے مطابق، ہندوستان میں صرف تقریباً 1700 ریٹینولوجسٹ ہیں، جو ریٹینا سے جڑی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ڈائیبیٹک ریٹینوپیتھی اور عمر سے متعلق میکولر ڈی جنریشن جیسی بیماریوں کے لیے میڈیکل ریٹینا ٹریننگ سے عام ماہرینِ چشم کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور وہ بھر پور طریقے سے ملک بھر میں ان بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال اور انتظام کر سکیں گے۔ یہ پہل کلینیکل ایکسی لینس اور اسکل ڈیولپمنٹ کو آگے بڑھانے کی ایمز نئی دہلی کی عہد بستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ ساتھ ہی، حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داریوں کے ذریعے ہندوستان میں ہیلتھ کیئر سروسز کی صلاحیتوں اور رسائی کو بڑھانے میں بھی مدد کرے گی۔
روش انڈیا ہیلتھ کیئر انسٹی ٹیوٹ (آر آئی ایچ آئی) کی ڈائریکٹر اور روش فارما انڈیا کی ایم ڈی و سی ای او، محترمہ راجی مہدوان نے کہا، "ریٹینا سے جڑی بیماریاں ملک کے لیے ایک ایسا سنگین مسئلہ ہیں، جس پر اکثر لوگوں کا دھیان نہیں جاتا۔ ہندوستان میں آج بھی تربیت یافتہ ریٹینا ماہرین اور ایسے ہنر مند ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی بڑی کمی ہے، جو بیماری کی ابتدائی شناخت اور وقت پر اس کے بہتر انتظام میں مدد کر سکیں۔ ایسے میں ایمز کے ساتھ اس طرح کی شراکت داری اہم تبدیلی لانے میں مدد کر سکتی ہے۔ ایک قابلِ اعتماد ہیلتھ کیئر پارٹنر کے طور پر، آر آئی ایچ آئی کو ایمز کے ساتھ مل کر ملک بھر میں صحت کی خدمات سے جڑی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے پر فخر ہے۔ نیشنل ریٹینا اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر کلینیکل مہارت کو بڑے پیمانے پر عملی صلاحیتوں میں بدلنے کی سمت میں ایک اہم پہل ہے۔ ہمیں ایسے اقدام کی حمایت کرنے پر فخر ہے، جو ہندوستان میں ریٹینا کی دیکھ بھال سے جڑے صحت کے نظام کو مضبوط کر سکتا ہے اور روکی جا سکنے والی بینائی کی محرومی کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔"
