مسٹر مودی نے آئی آئی ٹی دہلی کی 57 ویں تقسیم اسناد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان ایسے وقت میں وکست بھارت کی یاترا پر آگے بڑھ رہا ہے جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی طاقت ٹیکنالوجی کی رفتار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے 20-30 سال کی دنیا کیسی ہوگی، یہ یقینی طور پر کوئی نہیں کہہ سکتا، لیکن تبدیلی کے دور میں چیلنجوں کے ساتھ نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "دنیا بدلے گی، ٹیکنالوجی بھی بدلے گی، صنعت بدلے گی، پیشے بھی بدلیں گے۔ لیکن، ان سب کے درمیان میری بات یاد رکھیے گا، جو سیکھے گا، وہ جیتے گا۔ جو نئے چیلنجوں کے نئے حل تلاش کرنے کا حوصلہ رکھے گا، چیلنجز اس کے لیے موقع بن جائیں گے۔"
مسٹر مودی نے کہا کہ آئی آئی ٹی سے ملنے والی ڈگری صرف امتحان پاس کرنے، اچھا سی جی پی اے حاصل کرنے یا اچھا پلیسمنٹ پانے کا ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طلباء مشکل مسائل کا حل نکالنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں جب کوئی چیلنج بڑا لگے تو اس سے گھبرانے کے بجائے اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ کر حل تلاش کرنا چاہیے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے سامنے آنے والے سال میں نئی تکنیکوں اور شعبوں میں کام کرنے کے وسیع مواقع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جدید پالیسیوں کی وجہ سے ایسے کئی شعبے نوجوانوں کے لیے کھلے ہیں، جہاں پہلے داخلے کے مواقع محدود تھے اور ملک میں نئے نئے شعبے بھی بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت کے سفر میں نوجوانوں کا کردار بڑا ہے اور ملک کا نوجوان جتنا بااختیار ہوگا، ملک اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندستان معاشی خود انحصاری، تکنیکی خود انحصاری اور صنعتی خود انحصاری کی سمت میں کام کر رہا ہے اور نوجوانوں کو اس مضبوط بنیاد پر وکست بھارت کی تعمیر کرنی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کی ایک مثال خلائی شعبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے تک اس شعبے میں تقریباً پورا کام حکومت کے سطح پر ہوتا تھا، لیکن آج یہی شعبہ ہزاروں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کا شعبہ بن چکا ہے۔ نوجوان اپنے لانچ وہیکل بنا رہے ہیں اور راکٹ لانچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں بھی ہندستان نے نئی شروعات کی ہے اور پہلی سیمی کنڈکٹر یونٹوں میں پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ چپ سے لے کر شپ تک سب کچھ ہندستان میں نوجوانوں کے ہاتھوں سے بنے گا۔ ڈرون کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ نوجوان اس شعبے میں نئے امکانات تیار کر رہے ہیں۔ زراعت میں کام لینے، دوائیاں پہنچانے اور ملک کے دفاع و سکیورٹی میں ڈرون کا استعمال ہو رہا ہے۔
مسٹر مودی نے ہندستان کے اسٹارٹ اپ انقلاب میں آئی آئی ٹی جیسے اداروں کے تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی ادارے سے کئی بانی نکلے ہیں اور اگر ایک ادارے سے اتنی بڑی طاقت تیار ہو سکتی ہے تو پورے ملک میں تیار ہو رہی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیکورن، ڈیجیٹل ادائیگی اور فن ٹیک انقلاب نے ملک کے لاکھوں نوجوانوں کو پہلی بار کچھ نیا کرنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی ایسے متعدد شعبے ہیں، جہاں ہندستان اپنا نیا سفر شروع کر رہا ہے اور ان شعبوں میں ملک کو نوجوانوں سے بڑی امیدیں ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا، "آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈیٹا سینٹر، نایاب معدنیات، گہرے سمندرمیں امکانات کی تلاش، بیٹری، توانائی کے اسٹوریج ، توانائی کی سکیورٹی، الیکٹرک ٹرانسپورٹ، کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے متعدد شعبے آپ کی قابلیت، آپ کی جدت طرازی اور آپ کی قیادت کا انتظار کر رہے ہیں، اور میں بھی انتظار کر رہا ہوں۔" انہوں نے کہا کہ ملک کے لیے ایک اور بڑا امکان تحقیق کے شعبے میں ہے۔ ہندستان کو نئی نئی ریسرچ کی ضرورت ہے اور حکومت کا اس سمت میں بھی دھیان ہے۔ انہوں نے پردھان منتری ریسرچ فیلوشپ، ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن اسکیم اور نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پہلوں کا مقصد ملک میں سائنس اور تحقیق کو نئی طاقت دینا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تحقیق کے شعبے میں ایک لاکھ کروڑ روپے تک کی فنڈنگ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی وسائل تک رسائی بھی آسان بنائی گئی ہے اور 'ون نیشن ون سبسکرپشن' کے ذریعے دنیا کی ممتاز ریسرچ جرنلز ملک کے چھوٹے سے چھوٹے شہروں تک بغیر کسی اضافی لاگت کے پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے شعبے میں ابھی لمبا فاصلہ طے کرنا ہے اور یہ کام نوجوانوں کی عہد بستگی کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو نوجوانوں سے توقع بھی ہے اور ان پر بھروسہ بھی۔
مسٹر مودی نے طلباء کو زندگی میں دوسروں سے موازنہ کرنے سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کریئر کے آغاز میں یہ دیکھنا کہ کسے کتنا پیکیج ملا، کون کس کمپنی میں گیا، کس شہر یا ملک میں گیا اور کس نے اسٹارٹ اپ شروع کیا، ایک بڑا انحراف بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں ایسا موازنہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، "زندگی کوئی لیڈر بورڈ نہیں ہے، آپ کی اصل دوڑ کسی اور سے نہیں، خود اپنے آپ سے ہے۔ ہر دن کل سے بہتر بننے کی کوشش کرتے رہیے۔"
وزیر اعظم نے طلباء سے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا بھی خیال رکھنے کو کہا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہر نسل کے سامنے اس کے وقت کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں اور اس کی اپنی قومی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 30-35 سال میں نوجوان جو کچھ کریں گے، اس کا اثر وکست بھارت کے سفر پر پڑے گا۔ انہوں نے طلباء سے اپنے ہر فیصلے میں یہ سوچنے کو کہا کہ اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا اور ملک کی کون سی ضرورت پوری ہوگی۔ وزیر اعظم نے طلباء کو زندگی میں تجسس اور سیکھنے کا رجحان برقرار رکھنے نیز قائم شدہ تصورات کو پرکھنے اور ان پر سوال اٹھانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف سوال پوچھ کر رکنا نہیں چاہیے، بلکہ ان کے حل تلاش کرنے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئی آئی ٹی کے امتحان میں نصاب اور سوالنامہ ہوتا ہے، لیکن زندگی کے امتحان میں سب کچھ 'آؤٹ آف سلیبس' ہوتا ہے۔ کئی بار انسان کو یہ بھی خود پہچاننا پڑتا ہے کہ اصل سوال کیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ آئی آئی ٹی کے کئی سابق طلباء کی کامیابی کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ انہوں نے صحیح جواب دیے، بلکہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے ان سوالوں کو پہچانا جنہیں دنیا نے سوال ماننا ہی چھوڑ دیا تھا اور ان مسائل کا حل تلاش کیا، جن کے ساتھ دوسرے لوگ سمجھوتہ کر چکے تھے۔ انہوں نے آئی آئی ٹی دہلی سے تقسیم اسناد تقریب کے بعد نکل رہے طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ادارے، اساتذہ، دوستوں اور اس سفر میں تعاون کرنے والے تمام لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھیں۔
