صنعا، 8 اگست (مسرت ڈاٹ کام) صنعاء حکومت نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مشترکہ دفاعی معاہدے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کرتے ہوئے محاصرے کے خاتمے اور اپنے جائز حقوق کے حصول تک مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی حکام نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف جارحیت میں ممکنہ نئے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جواز یا خوبصورت عنوان کے تحت سعودی جارحیت میں شامل ہونے والا فریق جارح تصور کیا جائے گا۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے جمعہ کے روز ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تینوں ممالک کے مطابق اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا ہے اور معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔
صنعاء نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے اسے یمن کے خلاف سعودی جارحیت جاری رکھنے کے لیے ایک پردہ قرار دیا ہے۔
یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے کہا کہ معاہدے ماضی پر لاگو نہیں ہوتے اور ’’محاصرے کے بدلے محاصرہ‘‘ کی پالیسی اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔
المشاط نے اپنے بیان میں کہا کہ جو بھی سعودی جارح کے ساتھ اس کی 12 سالہ جارحیت اور یمن کے محاصرے میں شریک ہونا چاہتا ہے، وہ جارح تصور ہوگا، چاہے اس شرکت کو کتنے ہی خوبصورت اور پرکشش عنوانات میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے سعودی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاض پوری دنیا کو بھی اپنے ساتھ جمع کرلے تو اس سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ منصفانہ اور باعزت امن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کی قیمت جنگ کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
المشاط نے مزید خبردار کیا کہ یمنی قانون دشمن ریاستوں کے ساتھ برتاؤ کا طریقہ کار واضح کرتا ہے۔
