نشریاتی ادارے کے مطابق جنرل کین نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کابینہ کے اہم ارکان، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مرکزی خفیہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف شامل ہیں، کے ساتھ کئی خفیہ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ایران کے معاملے پر مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مزید کشیدگی بڑھانے کے خطرات اور اس سے پیدا ہونے والی تعطل کی صورت حال سے آگاہ کرنا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں یہ سمجھ بڑھ رہی ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع میں فضائی طاقت کے استعمال کی اپنی حدود ہیں اور جنرل کین بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کو یقین ہے کہ بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے، بلکہ اس کے نتیجے میں خلیج فارس میں موجود امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی حملے ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے ساتھ 30 سے 60 روز کی جنگ بندی کا معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یکم اگست کو کہا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ ایک معاہدہ طے پانے کی امید ہے۔ اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
