Masarrat
Masarrat Urdu

اے آئی پی نے چیف جسٹس آف انڈیا سے ایم پی انجینئر رشید کی ضمانت کی درخواست پر فوری اور ہمدردانہ غور کی اپیل کی

Thumb

سری نگر، 8 اگست (مسرت ڈاٹ کام) عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) نے ہفتہ کو چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کے صدر اور بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی ضمانت کی درخواست پر ’’ہمدردی، عجلت اور آئینی انصاف‘‘ کے ساتھ غور کریں، کیونکہ انہیں جیل میں قید ہوئے سات سال مکمل ہو چکے ہیں۔

یہ اپیل اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام النبی، ریاستی سکریٹری شیخ عاشق اور جنرل سکریٹری نذیر احمد خان نے یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران کی۔

انعام نے کہا کہ ایک منتخب رکن پارلیمنٹ کا سات سال تک جیل میں رہنا، جبکہ مقدمہ ابھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچا ہے، محض قانونی معاملہ نہیں بلکہ انصاف، آئینی اقدار اور انسانی ضمیر کے لیے ایک سنگین امتحان ہے۔

انعام نے کہاکہ ’’انجینئر رشید محض ایک ملزم نہیں ہیں۔ وہ بارہمولہ سے جمہوری طور پر منتخب رکن پارلیمنٹ ہیں اور کشمیر کی تقریباً 40 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سات طویل برسوں سے ان کے حلقے کے عوام کی جمہوری آواز ان لوگوں سے دور ہے جنہوں نے انہیں منتخب کیا تھا۔‘‘

چیف جسٹس آف انڈیا سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے انعام النبی نے کہا کہ عدلیہ نے بارہا شخصی آزادی کی اہمیت اور اس اصول پر زور دیا ہے کہ ’’ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا‘‘۔

انہوں نے کہاکہ ’’ہم عدالتی عمل پر سوال نہیں اٹھا رہے ہیں۔ ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ ہماری صرف یہ درخواست ہے کہ انصاف میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، خاص طور پر جب کسی شخص کی آزادی کا معاملہ ہو۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سات سال کا وقت انجینئر رشید، ان کے خاندان یا ان کے حلقے کے عوام کو واپس نہیں مل سکتا۔ طویل حراست نے ان کے حلقے کے عوام کو پارلیمانی نمائندگی سے بھی محروم رکھا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 21 کا حوالہ دیتے ہوئے انعام النبی نے کہا کہ زندگی اور شخصی آزادی کا حق آئینی طور پر بنیادی ضمانت ہے اور طویل حراست اور مقدمے میں تاخیر کو اعلیٰ عدالتی سطح پر پوری سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ ’’ہم انجینئر رشید کے لیے کوئی خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے ہیں۔ ہم مساوی انصاف، مساوی سلوک اور ہر شہری کو حاصل آئینی ضمانتوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہماری اپیل سیاسی نہیں بلکہ آئینی اور انسانی بنیادوں پر ہے۔‘‘

انجینئر رشید، جنہیں دہشت گردی سے متعلق الزامات کا سامنا ہے، گزشتہ سات سال سے تہاڑ جیل میں ہیں۔

دریں اثنا، اے آئی پی کے چیف ترجمان نے نئی دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے انجینئر رشید سے متعلق مقدمے کی کارروائی میں ہونے والی ایک اہم پیش رفت کی بھی نشاندہی کی۔

6 جولائی 2026 کو ہونے والی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے النبی نے کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ محمد یاسین ملک نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوکر کہا تھا کہ تفتیشی ایجنسی نے ایک مبینہ ای میل میں درج ’’شیخ عبدالرشید‘‘ کی شناخت انجینئر رشید کے طور پر کرکے انہیں غلط طور پر مقدمے میں پھنسایا ہے۔

نبی کے مطابق یاسین ملک نے عدالت کو بتایا کہ اسی نام کا ایک اور شخص جے کے ایل ایف سے وابستہ تھا اور اس سلسلے میں ایک حلف نامہ بھی پیش کیا۔ عدالت نے حلف نامہ ریکارڈ پر لے لیا اور کہا کہ الزامات طے کرنے کے سلسلے میں حکم جاری کرتے وقت اس پر غور کیا جائے گا۔

نبی نے کہا کہ یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ انجینئر رشید کا مسلسل موقف رہا ہے کہ مبینہ خط و کتابت میں جس ’’شیخ عبدالرشید‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ وہ خود نہیں بلکہ اسی نام کا کوئی دوسرا شخص ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’ہم انجینئر رشید کے لیے کوئی خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے ہیں۔ ہم مساوی انصاف، مساوی سلوک اور ہر شہری کو حاصل آئینی ضمانتوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہماری اپیل سیاسی نہیں بلکہ آئینی اور انسانی بنیادوں پر ہے۔‘‘

انجینئر رشید، جنہیں دہشت گردی سے متعلق الزامات کا سامنا ہے، گزشتہ سات سال سے تہاڑ جیل میں ہیں۔

دریں اثنا، اے آئی پی کے چیف ترجمان نے نئی دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے انجینئر رشید سے متعلق مقدمے کی کارروائی میں ہونے والی ایک اہم پیش رفت کی بھی نشاندہی کی۔

6 جولائی 2026 کو ہونے والی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے النبی نے کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ محمد یاسین ملک نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوکر کہا تھا کہ تفتیشی ایجنسی نے ایک مبینہ ای میل میں درج ’’شیخ عبدالرشید‘‘ کی شناخت انجینئر رشید کے طور پر کرکے انہیں غلط طور پر مقدمے میں پھنسایا ہے۔

نبی کے مطابق یاسین ملک نے عدالت کو بتایا کہ اسی نام کا ایک اور شخص جے کے ایل ایف سے وابستہ تھا اور اس سلسلے میں ایک حلف نامہ بھی پیش کیا۔ عدالت نے حلف نامہ ریکارڈ پر لے لیا اور کہا کہ الزامات طے کرنے کے سلسلے میں حکم جاری کرتے وقت اس پر غور کیا جائے گا۔

نبی نے کہا کہ یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ انجینئر رشید کا مسلسل موقف رہا ہے کہ مبینہ خط و کتابت میں جس ’’شیخ عبدالرشید‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ وہ خود نہیں بلکہ اسی نام کا کوئی دوسرا شخص ہے۔

Ads