کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی تعلیم مخالف ہیں اور جے این یو کو کمزور کرنا ان کے سیاسی منصوبے کا حصہ رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ فروری 2022 میں حکومت نے محترمہ شانتی شری دھولی پوڈی پنڈت کو وائس چانسلر بنایا اور اس کے بعد جے این یو میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کم از کم پانچ ایسوسی ایٹ پروفیسروں اور دو پروفیسروں کی تقرریاں کی گئی ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وائس چانسلر کی مدت کار میں 220 سے زائد اساتذہ کی تقرریاں ہوئی ہیں اور بے ضابطگیوں کا واقعی دائرہ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
مسٹر کھیڑا نے الزام لگایا ہے کہ کم از کم موجودہ دو اساتذہ کو ترقی دینے کے معمول کے طریقہ کار کی پیروی کیے بغیر براہ راست بھرتی کے ذریعے پروفیسر مقرر کیا گیا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ وزیر خزانہ سیتا رمن اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر، دونوں جے این یو کے سابق طلباء ہیں، لیکن انہوں نے اپنی یونیورسٹی کے ادارہ جاتی وقار اور تعلیمی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے اس پر حکومت سے جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
