تہران، 7اگست (مسرت ڈاٹ کام) ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن رضا نے کہا ہے کہ ایران کی مقامی اور خود تیار کردہ دفاعی ٹیکنالوجی خطے میں موجود کسی بھی درآمدی عسکری نظام سے زیادہ مؤثر اور برتر ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنرل ابن رضا نے کہا کہ دشمن کی صلاحیتوں میں مسلسل کمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جبکہ ایرانی مسلح افواج ملکی دفاعی صنعت پر انحصار کرتے ہوئے ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل ابن رضا نے زور دے کر کہا کہ جو ممالک اپنی سلامتی اور عسکری برتری کو بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے دفاعی نظاموں کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ جلد اس حقیقت کا ادراک کر لیں گے کہ ایران کی مقامی ٹیکنالوجی خطے کے ہر نظام سے برتر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے ذریعے ایسی صلاحیتیں حاصل کی ہیں جو ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کے کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دینے کی قدرت رکھتی ہیں۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ تنازع کے آغاز کے بعد امریکہ اپنے THAAD میزائل دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز اور پیٹریاٹ میزائل ذخیرے کا نصف استعمال کر چکا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی افواج اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ATACMS اور Precision Strike Missiles (PrSM) کا تقریباً تمام ذخیرہ استعمال کر چکی ہیں، جس کے باعث پینٹاگون کے اسلحہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔
