Masarrat
Masarrat Urdu

پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ کے لیے حزب اقتدار ذمہ دار، مودی-شاہ ایوان میں دیں جواب: کھرگے

Thumb

نئی دہلی، 06 اگست (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے نے پارلیمنٹ میں تعطل کے لیے حزب اقتدار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ طالب علموں پر پولیس کارروائی کے معاملے میں ایوان میں آ کر جواب دیں گے تب ہی پارلیمنٹ خوش اسلوبی سے چل سکے گی۔

مسٹر کھرگے نے جمعرات کے روز یہاں اپنی رہائش گاہ 10 راجاجی مارگ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن گزشتہ 15 دنوں سے طالب علموں پر ہوئے مبینہ مظالم، لاٹھی چارج، پیلٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کے معاملے پر وزیر داخلہ سے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن حکومت مسلسل اس سے بچ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالب علم پرامن طریقے سے مظاہرہ کر رہے تھے، اس کے باوجود ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا اور اس کی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ طالب علموں پر لاٹھی چارج، پیلٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کا حکم کس نے دیا۔ اگر وزیر داخلہ ایوان میں آ کر صورتِ حال واضح کر دیتے تو اس معاملے پر بحث ہو جاتی اور پارلیمنٹ کا کام کاج معمول کے مطابق چل سکتا تھا۔

کانگریس صدر نے کہا کہ راجیہ سبھا کے چیئرمین نے بھی پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو سے کہا ہے کہ ایوان کی خواہش ہے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آ کر اپنی بات رکھیں لیکن اس کے باوجود حکومت نے اس سمت میں کوئی پہل نہیں کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے کا موقع بھی نہیں دیتی اور عوام سے جڑے اہم امور پر جواب دہی سے بچ رہی ہے۔

مسٹر کھرگے نے کہا کہ حزب اختلاف پارلیمنٹ میں تعطل پیدا کرنے کے بجائے چاہتا ہے کہ ایوان میں نتیجہ خیز بحث ہو۔ اگر مسٹر مودی طالب علموں اور ان کے سرپرستوں سے معافی مانگ لیں اور مسٹر شاہ ایوان میں بیان دے دیں تو پارلیمنٹ کا تعطل ختم ہو سکتا ہے۔

جھارکھنڈ میں طالب علموں سے جڑے واقعات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کسی ایک ریاست کی نہیں، بلکہ پورے ملک کے طالب علموں اور نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ، پنجاب، دہلی یا کسی بھی ریاست میں طالب علموں کے ساتھ ناانصافی ہوگی تو کانگریس ان کی آواز اٹھاتی رہے گی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

 

Ads