Masarrat
Masarrat Urdu

اے پی سی آر گجرات کو گجرات ہائی کورٹ سے بڑی قانونی کامیابی، منڈرا میں چار مذہبی مقامات کے انہدام پر عبوری روک

  • 06 Aug 2026
  • مسرت ڈیسک
  • مذہب
Thumb

نئی دہلی، 6 اگست (مسرت ڈاٹ کام) ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) گجرات چیپٹر نے گجرات ہائی کورٹ سے ایک اہم عبوری ریلیف حاصل کر لیا ہے، جس کے تحت ضلع کچھ کے منڈرا تعلقہ میں واقع چار مسلم مذہبی مقامات کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی، بشمول انہدام، پر عارضی روک لگا دی گئی ہے۔ عدالت کا یہ حکم قانونی تقاضوں، آئینی اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔یہ اطلاع پریس کے لیے جاری ایک ریلیز میں دی گئی۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ضلع کچھ میں متعدد مسلم مذہبی مقامات، جن میں مساجد، درگاہیں اور دیگر عبادت گاہیں شامل ہیں، کے خلاف انہدام اور دیگر انتظامی کارروائیاں شروع کی گئی تھیں۔ ان مقامات کو جاری کیے گئے نوٹسوں کے باعث مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔

اس صورتحال کے پیش نظر اے پی سی آر گجرات نے متاثرہ مذہبی مقامات کی انتظامی کمیٹیوں کو قانونی معاونت فراہم کی۔ مسلم یووا کور کمیٹی، کچھ کے اشتراک سے اے پی سی آر نے قانونی نمائندگی، دستاویزات کی تیاری اور گجرات ہائی کورٹ میں مقدمے کی پیروی کے تمام مراحل میں متاثرین کی معاونت کی۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب منڈرا تعلقہ کے مملتدار نے گجرات لینڈ ریونیو ایکٹ، 1879 کی دفعہ 61 کے تحت چار مذہبی مقامات سے متعلق ڈھانچوں کو صرف پانچ دن کے اندر ہٹانے کے احکامات جاری کیے۔

ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ گجرات لینڈ ریونیو ایکٹ ایسے احکامات کے خلاف اپیل کا قانونی حق فراہم کرتا ہے اور اپیل دائر کرنے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر ہے۔ صرف پانچ دن میں انہدام کا حکم نافذ کرنے کی ہدایت نہ صرف اس قانونی حق کو عملاً سلب کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ اصولِ انصاف کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس انیرُدھ پی. مائی نے درخواست گزاروں کو عبوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے حکم دیا کہ انہیں قانون کے تحت اپیل کا حق حاصل ہے، لہٰذا اپیل دائر کرنے کی مقررہ قانونی مدت ختم ہونے یا متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی کے فیصلہ آنے تک ان چاروں مذہبی مقامات کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی، بشمول انہدام، نہیں کی جائے گی۔

عدالت کا یہ فیصلہ متاثرہ مذہبی مقامات کے لیے فوری ریلیف فراہم کرتا ہے اور اس حقیقت کی توثیق بھی کرتا ہے کہ انتظامی کارروائیاں آئین، قانونی تحفظات اور طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہی انجام دی جانی چاہئیں۔

اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ من مانی یا غیر قانونی انتظامی کارروائیوں کا سامنا کرنے والے افراد اور برادریوں کو قانونی معاونت فراہم کرتی رہے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر شہری کو، خواہ اس کا مذہب یا سماجی پس منظر کچھ بھی ہو، انصاف تک مساوی رسائی حاصل رہے۔

اے پی سی آر گجرات نے مسلم یووا کور کمیٹی، کچھ کی خدمات کو بھی سراہا، جس نے متاثرہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطہ، ضروری دستاویزات کی تیاری میں تعاون اور عدالتی کارروائی کے دوران مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے بروقت قانونی ریلیف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔

 

Ads