امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو نیو جرسی کے شہر بیڈمنسٹر میں واقع اپنے گلف کلب میں ہفتہ وار تعطیل گزارنے کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’وہ حملے کی شدت سے واقف تھے، اب ہم اُن سے مذاکرات کی صورت میں بات کر رہے ہیں، یہ کل دوپہر شروع ہوں گے اور پھر ہم دیکھیں گے۔‘‘
ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر جیسے اتحادیوں اور ایران نے ان سے منصوبہ بند حملہ منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔ انھوں نے کہا ’’ہم حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے، لیکن جب اتحادیوں نے اسے منسوخ کرنے کو کہا تو ہم نے کہا اچھا دیکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک معاہدہ ہے، اور پھر جوہری معاملے پر بھی ایک معاہدہ ہوگا، یا آپ اسے ایران کی جوہری صلاحیتوں کا خاتمہ کہہ سکتے ہیں، میں اسے ایران کی جوہری صلاحیتوں کا خاتمہ کہتا ہوں۔‘‘
یاد رہے کہ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی، جس میں انھوں نے جنگ میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ اس سے قبل ذرائع نے سی این این کو بتایا تھا کہ ولی عہد نے اس گفتگو کے دوران ایران پر حملے کے منصوبوں کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
دوسری طرف ایرانی سرکاری میڈیا نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ایران نے ٹرمپ سے منصوبہ بند حملے روکنے کی درخواست کی تھی۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے اتوار کو پوسٹ کیا ’’احمق ٹرمپ کی ہوا نکل گئی ہے!‘‘
