Masarrat
Masarrat Urdu

نیلی جرسی ٹرف سے ملتی جلتی دکھائی دیتی تھی، نارنجی رنگ تکنیکی ضرورت کے تحت اپنایا گیا: ہاکی انڈیا

Thumb

نئی دہلی، 30 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) ہاکی انڈیا نے 2026 ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے لیے ہندوستانی مردوں کی ٹیم کی نئی نارنجی جرسی متعارف کرانے کے اپنے فیصلے کا جمعرات کو دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی بنیادی طور پر تکنیکی وجوہات کی بنا پر کی گئی ہے اور اسے کھلاڑیوں اور معاون عملے کی سفارشات کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ فیڈریشن نے پیر کے روز نئی جرسی کی رونمائی کی تھی، جس کے تحت آئندہ ماہ نیدرلینڈز اور بیلجیم میں ہونے والے ہاکی ورلڈ کپ کے لیے ہندوستانی مردوں کی ٹیم کی روایتی نیلی جرسی کی جگہ نارنجی رنگ کی جرسی متعارف کرائی گئی۔ اس فیصلے کے بعد وسیع پیمانے پر بحث چھڑ گئی۔ سابق ہندوستانی کپتان وریندر رسکینہ نے سوال اٹھایا کہ ہندوستانی ہاکی کی شناخت بن چکے نیلے رنگ کو آخر کیوں ترک کیا گیا۔ ہاکی انڈیا نے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف، معاون عملے اور کھلاڑیوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا اور اس کا مقصد میچوں کے دوران میدان میں کھلاڑیوں کی شناخت میں آسانی اور ایک دوسرے کی شناخت کو یقینی بنانا تھا۔ بیان میں کہا گیا، "ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جرسی کے رنگ میں تبدیلی کا فیصلہ معاون عملے اور کھلاڑیوں کی سفارشات اور ان کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ اس کا بنیادی سبب تکنیکی تھا۔ یہ دیکھا گیا کہ نیلے رنگ کی جرسی نیلے مصنوعی ٹرف سے ملتی جلتی دکھائی دیتی تھی، جو اب بین الاقوامی ہاکی میدانوں کا معیاری رنگ ہے۔ اس مماثلت کی وجہ سے میدان میں کھلاڑیوں کے لیے بصری وضاحت اور ایک دوسرے کی شناخت متاثر ہوتی تھی۔" ہاکی انڈیا کے مطابق کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں نے کئی متبادل رنگوں پر غور کیا، جن میں پیلا اور نارنجی رنگ شامل تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا، "تمام پہلوؤں پر غور کے بعد آخرکار نارنجی رنگ کو حتمی شکل دی گئی۔" فیڈریشن نے کہا کہ اس انتخاب کی صرف تکنیکی نہیں بلکہ علامتی اہمیت بھی ہے۔ بیان کے مطابق، "تکنیکی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ نارنجی رنگ ہمارے قومی پرچم کے تین رنگوں میں سے ایک ہے، جو جرات، قربانی اور قومی فخر کی علامت ہے۔" یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب وریندر نے سوشل میڈیا پر فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیلی جرسی ہندوستانی ہاکی کی شناخت کا لازمی حصہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہاکی انڈیا نے ہندوستانی ہاکی کے لیے بہت اچھے کام کیے ہیں، لیکن یہ فیصلہ مایوس کن ہے۔ ہندوستانی ٹیم کی شناخت اور وراثت ہمیشہ نیلی جرسی سے وابستہ رہی ہے۔ میں نے کئی برس فخر کے ساتھ نیلی جرسی پہنی ہے۔ شائقین ہندوستانی ٹیم کو نیلی جرسی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ آخر نارنجی رنگ اختیار کرنے کی منطق کیا ہے؟" اس تنقید کے جواب میں ہاکی انڈیا نے کہا کہ ہندوستانی ہاکی میں جرسی کے رنگ میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا، "ہندوستانی ہاکی میں وقتاً فوقتاً عملی اور دیگر ضروریات کے پیش نظر قومی ٹیم کی جرسی کا رنگ تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر 2014 کے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ میں ٹیم نے پیلے رنگ کی جرسی پہنی تھی، جبکہ 2018 کے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ میں آسمانی نیلے رنگ کی مختلف ڈیزائن والی جرسی استعمال کی گئی تھی۔" ہاکی انڈیا نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تبدیلی کوچز اور کھلاڑیوں کی تکنیکی آراء کے ساتھ ساتھ نارنجی رنگ کی قومی علامتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

 

Ads