Masarrat
Masarrat Urdu

ملک کے 215 ماہرین تعلیم نے پرینکا کو لکھا کھلا خط، پروفیسر کامکوٹی کا مذاق اڑانے پرظاہرکی ناراضگی

Thumb

نئی دہلی، 30 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) ملک بھر کے دو سو سے زیادہ موجودہ اور سابق وائس چانسلروں نیز ماہرین تعلیم نے کانگریس رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کو کھلا خط لکھ کر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کامکوٹی کے خلاف ان کے تبصرے پر اعتراض جتایا ہے اور کسی ماہرتعلیم پر بیان دیتے وقت احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ محترمہ واڈرا نے بدھ کو پبلک امتحانات (غلط طورطریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پر لوک سبھا میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے پروفیسر کامکوٹی کا نام لیے بغیر ان پر طنز کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاح کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں ایک 'گوموتر' کے ماہر کو بھی رکھا گیا ہے۔ محترمہ واڈرا کے اس بیان پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

کانگریس رکنِ پارلیمنٹ کو لکھے خط پر دستخط کرنے والے ملک بھر کے 215 ماہرین تعلیم نے کہا کہ پروفیسر کامکوٹی کا تعلیمی کیریئر اور تعلیم کے شعبے میں ان کا طویل تعاون رہا ہے۔ ان کے کام کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے گزارش کی ہے کہ کسی بھی ماہرتعلیم پر عوامی طور پر تبصرہ کرتے وقت حقائق اور وقار کا خیال رکھا جانا چاہیے۔

ماہرین تعلیم نے کہا ہے کہ ہندستانی پارلیمنٹ ہمیشہ سے ایسا پلیٹ فارم مانی گئی ہے، جہاں خیالات پر بحث ہوتی ہے، اختلافات وقار کے ساتھ ظاہر کیے جاتے ہیں۔ کسی شخص کا جائزہ اس کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کے دلائل کی مضبوطی کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ ماہرین تعلیم نے کہا، "ہمیں آپ کے اس بیان سے مایوسی ہوئی ہے، جس میں آپ نے پروفیسر کامکوٹی کو گوموتر ماہر کہا۔ چاہے یہ تبصرہ طنز کے طور پر کیا گیا ہو یا سیاسی بیان بازی کے تحت، اس سے کہیں وسیع اثر پڑتا ہے۔"

ماہرین تعلیم نے کہا کہ پروفیسر کامکوٹی ملک کے سب سے معزز سائنسی اور تکنیکی اداروں میں سے ایک آئی آئی ٹی مدراس کے سربراہ ہیں۔ ہر ماہرتعلیم کی طرح انہیں بھی مفروضات رکھنے، روایتی علم پر بحث کرنے اور سائنسی مکالمے میں حصہ لینے کا حق ہے۔ کسی عالم کے خیالات کے جوہر پر بحث کرنے کے بجائے اسے کسی سطح سے مسترد کر دینا، اس سائنسی نقطہٴ نظر کو کمزور کر سکتا ہے۔

ماہرین تعلیم نے خط میں لکھا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ متعدد ایسے خیالات جنہیں کبھی ناممکن یا ناقابلِ یقین مانا گیا تھا، بعد میں سائنسی طور پر سچے ثابت ہوئے۔ کئی وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ نظریات وقت کے ساتھ غلط ثابت ہوئے اور چھوڑ دیے گئے۔ یہ تشویشناک ہے کہ ایسے تبصرے ہندوستان کے تعلیمی اور تحقیقی طبقے کو کیا پیغام دیتے ہیں۔ ان کے دلائل پر تنقید کیجیے، ان کے شواہد کو چیلنج کیجیے، ثبوتوں کے اعلیٰ معیار کا مطالبہ کیجیے، لیکن ان کی علمیت اور تحقیق کو کمتر مت سمجھیئے ۔

قابلِ ذکر ہے کہ چنئی کی ایک گؤشالہ میں ماٹو پونگل پروگرام کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے پروفیسر کامکوٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ گوموتر میں جراثیم کش، فنگس کش اور ہاضمے سے متعلق خصوصیات ہوتی ہیں۔ اس دوران انہوں نے ایک تپسوی کی کہانی بھی سنائی تھی۔

 

Ads