Masarrat
Masarrat Urdu

عدالت نے پیلٹ گن کے استعمال کے خلاف عرضی پر اٹھائے سوالات، زخمی مظاہرین کے علاج کی دی ہدایت

Thumb

نئی دہلی، 30 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعہ پیلٹ گن کے استعمال پر روک لگانے والی عرضی کو 'غیر واضح' کہا۔

قابلِ ذکر ہے کہ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی نیز وی موہنا کی بنچ انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے سابق افسر یشووردھن آزاد اور 20 جولائی کے 'سنسد چلو' احتجاجی مظاہرے کے دوران زخمی ہوئے دو لوگوں کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ ان لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ریپڈ ایکشن فورس کے ذریعہ چلائی گئی پیلٹ گن سے وہ زخمی ہوئے تھے۔

بنچ نے غور کیا کہ پولیس قوانین خاص حالات میں پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ عرضی گزاروں کی دلیل تھی کہ ان کے جسم سے دھات کی گولیاں پیلٹ ملی تھیں۔ عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ورندا گروور نے دلیل دی کہ پیلٹ گن کے استعمال سے جڑے قوانین آسانی سے عوامی طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ان قوانین کو ریکارڈ پر لانے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا تاکہ عرضی میں مناسب تبدیلیاں کی جا سکیں۔

انہوں نے ایک زخمی عرضی گزار کے لیے نا کافی علاج کا مسئلہ بھی اٹھایا اور گولہ بارود کے ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا۔ مرکز نے عدالت کو بھروسہ دلایا کہ وہ تعاون کرے گا اور جانچ کے لیے ضروری تمام سامان محفوظ رکھے گا۔ بنچ نے کہا کہ جب احتجاجی مظاہرے پرتشدد ہو جاتے ہیں، تو پولیس کو صورتحال کے حساب سے قدم اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔ بنچ نے معاملے کی سماعت ملتوی کر دی اور اس دوران دہلی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ زخمی عرضی گزاروں اور اسی طرح متاثرہ دیگر لوگوں کے لیے مناسب علاج یقینی بنائے۔

 

Ads